girl washing dishes 372

عورت کا کام صرف برتن دھونا نہیں

میری ایک کولیگ کو اللہ نے بہترین لمبا قد عطا فرمایا ، پانچ فٹ 11 انچ قد کے ساتھ دبلی پتلی جسامت والی خاتون چلتے پھرتے ضرورت سے زیادہ لمبی معلوم ہوتیں ۔ ایک دفعہ موصوفہ کے ساتھ لاہور کے اچھرہ بازار میں کچھ کام کے سلسلے میں جانا پڑا ۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک انوکھا واقعہ پیش آیا ۔ ایک منچلے نوجوان نے لمبے قد کی خاتون کو “کوٹھے” کی آوازیں لگائیں ۔۔ مجھے حیرانی ہوئی جب اس خاتون کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کوئی اسے ہراسمنٹ کا نشان بنا رہا ہے ۔ لیکن دوسری طرف وہ لڑکا اپنے ساتھ کھڑے نوجوانوں سے اس کارنامے پر فاتحانہ داد وصول کر چکا تھا ۔ اور یقیناً اسے رات نیند بھی نہ آئی ہو کہ آج میں ایک خاتون کو “چھیڑنے” میں کامیاب ہوا ہوں –

ایسا ہی کچھ واقعہ ہمیں معروف اداکارہ اور گلوکارہ میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے میں نظر آتا ہے ۔۔ جب تک میشا شفیع کو سمجھ آئی ،، وہ ہراسمنٹ کا شکار ہو چکی تھی ( گو کہ علی ظفر کا موقف کچھ اور ہے)

ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ خواتین کی تعلیم کے ساتھ تربیت کا ہے ۔ ہمارے گھروں میں موجود مائیں اپنی بیٹی کو یہ تو بتاتی ہیں کہ تم نے تعلیم حاصل کرنی ہے اور معاشرے میں اپنے لیے مقام بنانا ہے لیکن یہ نہں بتایا جاتا کہ اسے اس معاشرے میں کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ہمیں یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ ڈگری حاصل کرو لیکن اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیے گھر کا چولہا ، ہانڈی اور برتن دھونا سب سے زیادہ اہم بنا دیا جاتا ہے ۔

کہیں نہ کہیں ہماری مشرقی خواتین بھی چولہے کو فوقیت دیتی ہیں اور ان کے ذہنوں میں غلامی کا عنصر موجود رہتا ہے ۔ مشرقی خواتین کو اگر پاکستان سے نکلنے کا موقع مل بھی جائے تو بیرون ملک جا کر بھی ترقی کے مواقع حاصل کرنے کی بجائے وہاں بھی چولہے کے آگے بیٹھ جاتی ہیں-

پاکستان کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کا جائزہ لیں تو میرٹ لسٹ میں پہلے لڑکیوں کا نام آتا ہے اور ان کے بعد کہیں جا کر لڑکوں کی باری آتی ہے ۔ پروفیشنل ڈگری کی بات کی جائے تو یونیورسٹی سیٹ پر داخلہ لینے والی لڑکیاں اگر عملی زندگی میں قدم رکھیں تو وہاں بھی انہیں اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرنے کی آزادی تو ملتی ہے لیکن دوسری طرف شادی ہونے کے فوری بعد سسرال کی روایات کا امین بنتے ہوئے نوکری چھوڑ کر گھر کے چولہے چوکھے کو ترجیح دے دی جاتی ہے ۔
اب غور کریں تو یونیورسٹی داخلے کے وقت اس لڑکی نے ایک ایسے شخص کی سیٹ کا حق مارا جس کے نمبر بظاہر کم تھے لیکن وہ اس شعبے کے لیے موزوں شخص تھا ۔ پھر اس شخص کا بھی حق مارا جس نے نوکری کر کے اپنا اور خاندان کا پیٹ پالنا تھا ۔ لیکن وہ وقت گزارنے کے بعد جب کھیت چگ چکا ہوتا ہے وہ نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں ۔

آج کل موم بتی مافیا اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کی بھرمار ہے اور عورت کو یہ سمجھنے کا موقع ہی نہیں مل رہا کہ آخر اس کی مرضی ہے کیا ۔ ایک دفعہ فیشن کے نام پر جب میں نے اپنی جینز کو گھٹنوں سے پھاڑ دیا تو محلے کے ایک برزگ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا جب انسان کو شعور ملا اس نے سب سے پہلے اپنا تن ڈھانک لیا اور تم کپڑے پھاڑ کر ماڈرن بننے کے چکر میں ہو ۔

اصل مسئلہ آج بھی یہ ہے کہ عورت کو اس کا مقام پہچاننے کی ضرورت ہے ۔ اسے علم ہونا چاہیئے کہ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں ہو سکتی ۔ اور زندگی کا مقصد صرف چولہا چوکھا ، برتن ، کپڑے اور گھر کی صفائی نہیں ۔ عورت کا کام نسلوں کی تربیت کرنا ہے ۔ جن کاموں کو ہم نے سر پر سوار کر رکھا ہے وہ گھر بنانے کے اجزا ہیں ، مرکب نہیں
ہمارا معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہونے جا رہا ہے اس کا حل صرف اس بات میں ہے کہ ہم اپنی خواتین کو نہ صرف خود اعتمادی دیں بلکہ انہیں معاشرے میں چلنے کیلئے مکمل معاونت فراہم کریں ، تاکہ وہ نہ صرف معاشرے میں برابری کی سطح پر چلنے کے قابل ہوں ۔ جہاں تک بات ہے خواتین کی عزت اور حرمت کی تو اس میں کسی قسم کی سمجھوتا نہیں کیا کیا جا سکتا ۔ لہذا ہمیں اپنے آپ سے یہ معاملہ شروع کرنے کی دیر ہے کہ ہم خواتین کو نہ صرف باہر کی دنیا سے روشناس کروائیں بلکہ انہیں معاشرے کی تلخ حقیقت کی آگاہی بھی ضرور دیں ۔ تاکہ ہم نپولین کے قول “تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ نسل دوں گا” پر عمل کر سکیں –

عورت کی اصل زمہ داریوں میں مکان کو گھر بنانا ، اسے سنوارنا ، اس میں سکون پیدا کرنا اور آنے والی نسلوں کی پرورش کرنا ہے ۔ اور ہماری ماوں کی ذمہ داریوں میں بھی اپنی بیٹی کو ایسی تعلیم دینا ہے کہ صرف گھر کے برتن دھونے سے فرض ادا نہیں ہو سکتا ، اپنے معاشرتی فرائض کو سمجھنا بہت ضروری ہے

تحریر:
اعیان سندھو

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں