two people killed in bazaar of naushahro feroze 75

ہم دوسروں کو گالیاں نکالتے اور ان کی کردارکشی کرتے ہیں ، مگرافسوس وہ تمام صفات ہم میں پائی جاتی ہیں

ہم یزید ابن زیاد شمر خولی سعد بن ابی وقاص کو ہر لمحے گالیاں نکالتے اور ان کے کردار کو برے الفاظ میں بیان کرتے ہیں مگر افسوس ہمارے اندر وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو ان میں تھیں ۔

شاید آپ کے علم میں یہ بات ہو یا نہ ہو یزید کے مرنے کے بعد یزید کے بیٹے کو تین براعظموں کی حکومت مل رہی تھی جب اسے پتہ چلا تین براعظموں کی حکومت کی کرسی کے کہ پس پردہ 72 بے گناہ شہادتیں ہیں اور شہادتیں وہ بھی آل رسول علیہم السلام ہر شہید کی ایک اپنی پہچان تھیں مگر ایک ایسی شخصیت جن کے متعلق اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا حسین علیہ سلام مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ سلام سے ہوں کی شہادت ہے میں اس کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں یہ کہہ کر روپوش ہوگیا کہ میرے والد نے کرسی کی خاطر اتنا ظلم و ستم کیا ہے جو قیامت تک لعنت کا سبب اور قیامت میں سب سے بڑی جہنم مقدر بنی۔

ہم خیانت ۔ جھوٹ۔ نفرت۔ بغض ۔ حسد۔ ریاکاری۔ رزق حال ہم نہیں کھاتے اگر رزق حال آپ کا مقدر بن جائے تو آپ اس کو بھی حرام کردیتے ہیں سو من دودھ میں پیشاب کا ایک قطرہ گر جائے کیا وہ پاک رہے گا ہم رزق حلال کو تھوڑا سا حرام رزق ڈال کر تمام کو حرام کردیتے ہیں۔ رشوت خوری۔ کم تولنا۔ جھوٹ بھول کر سودہ بازی کرنا۔ ظلم و ستم و بربریت ۔ باطلی کے پیرکار۔ لالچ ۔ حوس۔ عدل و انصاف کا گلا گھونٹنا۔ ہم اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہونے کے لئے کسی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور مذکورہ افراد جن میں یہ صفات پائی جاتیں ہیں ان کو برا اور گالیاں نکالتے ہیں اور ہم نے کردار ان کا اپنایا ہوا ہے ۔۔۔۔

حسینی بننا ہو گا تو یزیدی کردار کو چھوڑنا پڑے گا ورنہ آپکو یہ حق حاصل نہیں کی آپ حسینی کہلائیں ۔ حسینی بننے کے لئے آپکی حسن زندگی کو اپنانا ہوگا-

کالم نویس : رانا عاشق علی تبسم

why we are blaming others ?

انقلاب نیوز

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں