what is journalism 41

صحافت یا جرنلزم کیا ہے؟ صحافت کس زبان کا لفظ ہے اور اسکے معنی کیا ہیں ؟

انقلاب نیوز

چند روز قبل صحافی حضرات ودیگر صاحب علم سے سوال کیا تھا کہ صحافت کس زبان کا لفظ ہے اور اسکے معنی کیا ہیں 1500 سو شخصیات میں سے ایک فرد اس کا جواب دے پایا۔۔۔۔۔۔۔اگر نیچے لکھے گئے الفاظ سمجھ میں نہ آ پائیں تو سمجھنے کے لئے بڑا آسان طریقہ ۔۔۔یہ تو سنا ہے اللہ تعالی نے بعض انبیا علیہم السلام کو اپنی مخلوق کی رہنمائی اور اپنی طرف رغبت دلانے کے لئے صحیفے دیکر بھیجا اس سے آپ کو جلدی سمجھ آجائے گی
جواپ
پہلے آپ کو صحافت جرنلزم کے بارے میں معلومات فراہم کر تے ہیں،صحافت جرنلزم کیا ہے؟ صحافت عربی زبان کا لفظ ہے جوصحف سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی کتاب یا رسالے کے ہیں۔ یعنی ایسا مطبوعہ مواد، جو مقررہ وقفوں کے بعد شائع ہوتا ہے صحافت کہلاتا ہے۔ اردو اور فارسی میں یہی اصطلاح رائج ہے جبکہ انگریزی میں اسے جرنلزم کہا جاتا ہے۔ جوجرنل سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی روزانہ حساب کا بہی کھاتا یا روزنامچہ کے ہیں۔ جنرل کو ترتیب دینے والے کے لئے جرنلسٹ یا صحافی کی اصطلاح رائج ہے۔ ایسے صحافی جو اس پیشہ کو مکمل طور پر اپناتے ہیں یا اسے ذریعہ روزگار بناتے ہیں انہیں ورکنگ جرنلسٹ کہا جاتا ہے۔ جو صحافی جزوقتی طور پر کام کرتے ہیں یا کسی ایک اخبار سے وابستہ نہیں رہتے بلکہ مختلف اخبارات میں مضامین، فیچر، کالم لکھتے ہیں وہ آزاد صحافی (فری لانس جرنلسٹ) کہلاتے ہیں۔یہ تو ہوا صحافت کا مختصر سا تعارف اب آتے ہے صحافت کے اخلاقیات اور کردار کی طرف کہ صحافت میں صحافی کے اخلاقیات اور کردار کیا کیا ہے۔

مثبت صحافت کسی بھی معاشرے کی اصلاح میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔صحافت کے ذریعے لوگوں کے ،مسائل ،جذبات ،خیالات ، کھیل، فنون لطیفہ ،تفریح اور ثقافت کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے ملکی ترقی و خوشحالی میں صحافت کے شعبے کو بہت اہم حیثیت حاصل ہے۔صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے اور اس لئے صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتے ہیں۔صحافت کسی قوم کے ذہن کی تعمیر و تہذیب میں جو اہم کردار ادا کرتی ہے وہ کسی بھی ہوش مند انسان سے پس پردہ نہیں۔سب سے اہم بات جو صحافت سے مسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنا ہے اور صحافی کا کام لوگوں کی رہنمائی کرنا اور اطلاع دینا ہے۔ سیاست حکومت اور پرائیویٹ اداروں اور تجارت و معیشت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ صحافت کسی بھی معاشرے کے کلچر کو فروغ اور اجاگر کرتی ہے۔جس میں فنون لطیفہ ،کھیل اور تفریح کے شعبے بھی شامل ہیں۔صحافت کے اغراض و مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ حالات و واقعات کی تازہ ترین صورتحال سے عوام کو صداقت ،امامت اور شجاعت کے ساتھ غیر جانبدار نہ طور پر مطلع کرتا ہے صحافت عوام میں غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

صحافت میں صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط، گمراہ کن، اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر پریس کو نہ دے۔ اگر غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کرکے واضح کیا جائے اور اگر ضرورت ہے تو معذرت بھی مانگی جائے۔ صحافت حمایت کرنے سے آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔ کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر صحافی فریق ہے تو صحافی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستگی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کریں اس وقت تک کہ جب تک کہ کوئی متفقہ مفاہمتی معاہدہ سامنے نہیں آجاتا یا جب کوئی معاہدہ سامنے آجائے تو اسے پریس میں شائع کیا جائے۔صحافی کو کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کوئی شخص فون کرنے، تصویرلینے اور سوال کرنے سے منع کردے تو صحافی کو بھی رُک جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جگہ یا مکان پر صحافی کو مزید ٹھہرنے سے منع کرے تو اسے باہر آجانا چاہیے اور اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔

بلا وجہ صحافی کسی کی دل آزاری کیا معنی،دل شکنی بھی گوارا نہ کریں اور مروت کے حدود بھی قائم رکھیں،ان سے آگے قدم نہ بڑھائیں،صحافی جو بات بھی لکھے وہ حق اور سچ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پر بھی مبنی ہو۔

لوگوں کے جذبات کی محض نمائندگی پر ہرگز اکتفا نہ کریں بلکہ لوگوں کے مزاج اور جذبات کی اصلاح کی کوشش بھی کریں۔صحافی پر لازمی ہے کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈیجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کریں۔صحافیوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کی صورت میں اس کی وضاحت کریں گے۔صحافت میں پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔
اب آتے ہیں سوشل میڈیا پر پھیلی زرد صحافت کی طرف۔۔۔آج کل اگر زرد صحافت کی کوئی تعریف و تشریح ایسی کی جائے کہ کہاوت کے مطابق ” سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے ” تو وہ یوں ہوسکتی ہے ایسی جو خبر کو غیر پیشہ وارانہ اور غیر اخلاقی طور پر پیش کرے اسے زرد صحافت قرار دیا جاسکتا ہے۔فیس بک ‘ ٹویٹر ‘ اور یوٹیوب کی مدد سے فورا پھیلتا اور اثرات مرتب کرتا ہے۔ لغت کے مطابق زرد صحافت (yellow journalism) کا مطلب ہے ایسی صحافت جو خبروں اسٹوریز کو پھیلائے تاکہ قارئین کی بڑی تعداد اس جانب راغب ہو سکے۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدا زرد رنگ کی روشنائی سے کردار تخلیق کرکے اس سے اس منسوب من گھڑت خبریں تجزیے تبصرے اور مضامین شائع کیے جائے۔سوشل میڈیا میں اس ہی طرح یہ سلسلہ چل نکلا ہے جو آج پھر الیکٹرانک میڈیا میں عروج پر ہے۔افسوس اس بات کا یہ ہے کہ اس کے روک تھام کی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہیں ہر دن اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ اصل حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا چلن پڑھتا ہی جارہا ہے۔حقائق پروپیگنڈے کی گرد میں دی جاتے ہیں۔میرا ہر کسی سے عاجزانہ درخواست ہے چاہے وہ صحافی ہوں یا کوئی اور دانشور زرد صحافت سے پرہیز کی جائیں صاف ستھری اور تحقیقی و حقیقی خبریں،رپورٹس اور معلومات فراہم کریں-

اس کے بارے میں بہت سے قرآن مجید کی آیتیں اور احادیث موجود ہیںآیت کا مفہوم ہے کہ ”اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ ، اس دوسرے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو سنے اسے بیان کردے”….. لہذا آپ سب سے درخواست ہے کہ زرد صحافت سے پرہیز کریں کسی کو بلیک میل نہ کریں صحافت ایک بہت اہم ترین قومی فریضہ ہے اس کو مثبت انداز میں سرانجام دئیے۔صحافتی ذہن قیادت کا درجہ رکھتی ہے اسے اخلاقی تباہی کا ذریعہ نہ بنائے

تحریر : رانا عاشق علی تبسم

rana ashiq ali tabasim

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں