no needwe are facing unusual problems of domicile punjab govt 19

ہم دنیا کی زندگی میں بعض مقامات پر بے معنی رسومات میں الجھے ہوئے ہیں ۔

ہم نفسانی خواہشات کے شکنجے میں ہیں ہم اردگرد ماحول کو دیکھتے بوجھتے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے ماحول کی رسومات پر تو کروڑوں روپے فضول خرچ کردیتے ہیں مگر ہم اس افراد کو تلاش نہیں کرتے جنہیں آپکی ضرورت ہے۔ ہم سینما گھروں میں پانچ ہزار کسی کھیل کے میدان میں میچ دیکھنے کے لئے ہزاروں روپے خرچ کردیتے ہیں مگر جب مسجد میں جمعہ کے دوران کوئی جھولی لیکر آپ کے پاس سے گزرتا ہے 10 روپے سے لیکر 100 روپے تک جھولی میں پھینکتے ہیں اور دل میں خیال کرتے ہیں ہم نے مسجد یاخطیب پر بہت بڑا احسان کردیا ہو۔ دنیا کی لذتوں سے نکل کرذرا سوچیے اگر فہم و فراست رکھتے اور باشعور ہو تو گہرائی میں جا کے سوچئیے ضمیر کو جگائیے

اور غور سے توجہ فرمائیے اور سوچیے صاحب حثیت ہو یا مڈل کلاس کے افراد ہم کتنی رقم ضائع کرتے ہیں شادی بیاہ سجاوٹ لوگوں کے دکھاوے کیلئے یہ سب فضول خرچی ہے اس کا کوئی اجرو ثواب نہیں ملتا اگر اس رقم کو کسی غریب کی مدد مختلف طریقے سے کردیں بے لباس کو لباس دیں بھوکے کو کھانا کھلائیں کسی غریب لاچار کے بچوں کی تعلیم کے لئے خرچ کریں بے گھر کو سر ڈھانپنے کے لئے کوئی چھوٹی سی جھونپڑی لے دیں دولت مند ہو یا غریب سب جانتے ہیں ہم تھوڑے سے وقت کے لئے اس دنیا فانی آزمائش گاہ کے مہمان ہیں ۔ ہم خود اپنے عزیزوں کو سامی میں اتار کر آئے ہوتے ہیں اسی طرح ہمیں ہمارے عزیز ہم پر وہی عمل ہم پر دہرائیں گے بلآخر اپنی آخرت کا سوچئے اور انسانیت کی خدمت کیجیئے

المتاع الدنیا۔۔۔ دنیا گھاٹے کا سودہ ہے ۔ ان الانسان لافی خسر۔۔انسان خسارے میں ہے ۔۔۔ بس ہم کوشش کریں کہ اس آزمائشی گاہ دنیا کے دھوکے فریب اور خسارے سے باہر نکلیں اور آقا ء دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اللہ تعالی کے احکامت پر عمل پیرا ہو جائیں ۔۔۔ ہم دھوکے اور خسارے سے نکل پائیں تاکہ ہماری دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کر پائیں۔۔۔۔

تحریر : رانا عاشق علی تبسم

no need of domicile punjab govt

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں