151

بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف نے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے آئے بے روزگاروں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا رکھا ہے

بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف نے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے آئے بے روزگاروں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا رکھا ہے

مریم صدیقہ نیوز ڈائریکٹر انقلاب نیوز حیدرآباد

سندھ میں بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف کی جانب سے مکس سروی کےلیے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے بے روزگاروں کو اینیومیٹر رکھا گیا ہے۔ان کی 27 روزہ تربیت کراچی کی ریجینٹ پلازہ ھوٹل میں رکھی گئی ہے جہاں پر تربیت لینے والوں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔تمام تریبت لینے والوں سے روزانہ بدتمیزی کی جارہی ہے۔ان کو علاج کے لیے اسپتال تک نہیں چھوڑا جارہا ہے اور اگر کوئی ان سے علاج کرانے یا باہر نکلنے کی اجازت مانگتا ہے تو ان کو دھکے مار کر ہوٹل سے نکال دیا جاتا ہے اور کہتے ہیں ہوٹل میں جو خرچہ ہوئا ہے وہ بل ادا کرو اور نکل جائو۔اس طرح کا رویہ کس قانون کے تحت رکھا جارہا ہے۔یہ تمام عمل جبری مشقت کے ذمری میں آتا ہے۔کسی بے روزگار کو سروی کے چند پیسوں کے لیے قید رکھنا اور تذلیل کرنا کہاں کی فضیلت ہے۔اس معاملے کا چیف جسٹس اور آئی جی سندھ نوٹس لیں اور میڈیا کو بھی اس معاملے پر نظر ڈالنی چاہیے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں