65

بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف نے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے آئے بے روزگاروں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا رکھا ہے

بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف نے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے آئے بے روزگاروں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا رکھا ہے

مریم صدیقہ نیوز ڈائریکٹر انقلاب نیوز حیدرآباد

سندھ میں بیورو آف اسٹیٹکس اور یونیسیف کی جانب سے مکس سروی کےلیے سندھ بھر کے مختلف اضلاع سے بے روزگاروں کو اینیومیٹر رکھا گیا ہے۔ان کی 27 روزہ تربیت کراچی کی ریجینٹ پلازہ ھوٹل میں رکھی گئی ہے جہاں پر تربیت لینے والوں کو قیدیوں کی طرح یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔تمام تریبت لینے والوں سے روزانہ بدتمیزی کی جارہی ہے۔ان کو علاج کے لیے اسپتال تک نہیں چھوڑا جارہا ہے اور اگر کوئی ان سے علاج کرانے یا باہر نکلنے کی اجازت مانگتا ہے تو ان کو دھکے مار کر ہوٹل سے نکال دیا جاتا ہے اور کہتے ہیں ہوٹل میں جو خرچہ ہوئا ہے وہ بل ادا کرو اور نکل جائو۔اس طرح کا رویہ کس قانون کے تحت رکھا جارہا ہے۔یہ تمام عمل جبری مشقت کے ذمری میں آتا ہے۔کسی بے روزگار کو سروی کے چند پیسوں کے لیے قید رکھنا اور تذلیل کرنا کہاں کی فضیلت ہے۔اس معاملے کا چیف جسٹس اور آئی جی سندھ نوٹس لیں اور میڈیا کو بھی اس معاملے پر نظر ڈالنی چاہیے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں