two businessmen murdered not arrested yet , mithi , inklaab news , pakistan , singh, killing in tharparkar, 28

تھرپارکر: ضلع ھیڈکوارٹر مٹھی کے دو تاجروں کے قاتل تین روز باوجود بھی گرفتار نہیں ہوسکے،احتجاج جاری

مریم صدیقہ انقلاب نیوز مٹھی
سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزماں کی تصاویر اور جگہ واضع دیکھنے باوجود بھی پولیس حکام کے جلد گرفتار کرنے کے دعوے۔
وزیر داخلہ بھی مٹھی پہنچے۔ورثاء سے تعزیت بعد پولیس افسراں سے اجلاس۔پولیس کی کیس میں تفتیش اور پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ۔وزیر داخلہ کا بھی جلد ہی قاتل گرفتار کرنے کا وعدہ۔تاجروں کا تیسرے روز بھی دھرنا۔مٹھی شھر مکمل بند۔مٹھی کے دو تاجر بھائیوں دلیپ کمار اور چندر کمار  کے قاتلوں کی عدم گرفتاری خلاف تاجروں اور شھریوں نے تیسرے روز بھی کشمیر چوک پر دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا۔تاحال ملزماں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔صوبائی وزیر داخلہ سندھ سھیل انور سیال بھی پیپلزپارٹی چیئرمیں بلاول بھٹو کے نوٹس بعد مٹھی پہنچے جہاں پر وزیر داخلہ نے تاجر بھائیوں کے ورثاء سے تعزیت کی اور ھمدردی کااظھار کیا۔اس موقعے پر تاجر بھائیوں کے والد پیتامبر نے رو رو کر اور ھاتھ جوڑ کر وزیر کو اپیل کی کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سزا دلائے ۔والد نے کہا کہ میرے دو بیٹے تھے وہی گھر کے کفیل کا ذریعہ تھا۔ان کے قاتلوں کو تین دن سے تھر پولیس پکڑ نہیں سکی ۔جس پر صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ جلد ہی قاتلوں کو پکڑلیا جائے اور پ پ پ کی تمام قیادت اور سندھ حکومت نے سختی سے نوٹس لیا ہے ۔صوبائی وزیر داخلہ سندھ سھیل انور سیال نے تعزیت بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہتاجر بھائیوں کے قتل پر پیپلزپارٹی کی تمام قیادت نے دکھ کا اظھار کیا ہے اور بلاول بھٹو بھی اس کیس پر خود معلومات لے رہے ہیں۔اس وقت تک پولیس نے بہت سارے ثبوت جمع کر لئے ہیں۔جلد ہی قاتلوں کو پکڑ لیا جائےگا۔ایسے جرم کے واقعات پورے دنیا میں ہوتے ہیں۔مگر مسئلہ تب ہی کہ پولیس ملزمان کو پکڑ نہ سکے۔انہوں نے  کہا کہ سندھ حکومت نے وفاق کو خط لکھ کر کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ھدایت پر 22 گریڈ کی جگہ 21 گریڈ کا آء جی سندھ لگا ہوئا ہے اس کو تبدیل کیا جائے۔اس وقت ھم توھین عدالت کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ پولیس نے تاجروں کےقتل میں کسی بے گناھ کو گرفتار نہین کیا۔ اصل ملزمان کو گرفتار کرکے ھم ان کو رلائیں گے جس طرح یہ واردات کرکے اس خاندان کو رلایا گیا ہے۔انہوں نے پولیس کی غفلت کے سوال پر کہا کہ پولیس کی غفلت پر اس کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی اس طرح شکایت ہوتے کہ پولیس افسر کو ھٹاکر کیس کو خراب کیا گیا۔ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تو پولیس کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے تھر کی تمام پولیس کو صدر زرداری کے میرپورخاص جلسے میں بھیجنے کے سوال پر کہا کہ کچھ پولیس کو بھیجا گیا تھا ۔باقی پولیس موجود تھی۔اس طرح کی اچانک وارداتیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں۔ان وارداتوں میں پولیس کارروائی نہ کرے تو پھر ہی پولیس خلاف کارروائی مناسب رہے گی۔سھیل انور سیال کے ساتھ سینیٹر ھری رام کشوری لال۔خادم علی شاھ۔ایم پی اے  ڈاکٹر مھیش کمارملانی۔کھٹو مل جیون ۔ارباب لطف اللہ اور سشیل ملانی بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے تعزیت بعد ایس ایس پی آفس میں پولیس افسران سے اجلاس کیا اور قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ لی۔ذرائع کے مطابق پولیس ملزمان تک پہنچ چکی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تھر پریس کلب مٹھی کے ملازم رائچند  اور اس کے رشتیدار لونو مل کو  حراست میں معاملہ واضع ہوگیا ہے ۔سی سی ٹی وی فوٹیجز اور گرفتار افراد کی نشاندہی پر پولیس اصل ملزمان تک پہنچ گئی ہے۔تاحال پولیس نے کسی بھی ملزم کی  گرفتاری ظاھر نہیں کی ہے۔پولیس زرائع کے مطابق ملزماں تھر پریس کلب کی عمارت میں بھی ادھر گئے ہیں اور ایک ملزم نے انتظار بھی ادھر کیا جب تک دوسرہ ملزم وہاں پہنچا ہےاور پریس کلب سے اس وقت چوکیدار بھی اس وقت باھر نکلتا ہے جو سی سی ٹی وی میں واضع نظر آرہا ہے۔تاجروں کے قتل ٹنڈو جان محمد کی مھیشوری برادری نے مٹھی پہنچ کر تھرپارکر میڈیا سینٹر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کامطالبہ کیا۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں