385

تبدیلی آگئی یا آنے والی ہے؟

سال2018 کو پاکستان میں تبدیلی کا سال قرار دیا گیا ۔ پاکستان تحریک انصاف بائیس سال کی طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کیلئے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور ہر ماورائی وعدہ کر ڈالا ۔ قوم نے عمران خان سے اس حد تک امید لگا لی کہ ایسا گمان ہونے لگا کہ عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی اور امریکہ بہادر سمیت اقوام عالم پاکستان سے قرضہ لیں گی اور پاکستان دنیا کی نئی سپر پاور بن کر ابھرے گا ۔

کہا جاتا تھا کہ خان صاحب کے منصب سنبھالتے ہی ایسا انقلاب آئے گا کہ معیشت مستحکم ہو گی ، پٹرول 27 روپے فی لٹر ملے گا اور دنیا بھر سے اتنا سرمایہ آئے گا کہ شاید ایک روپے میں 145 ڈالر ملنے لگ جائیں ۔ عمران خان کی قیادت میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ پرانا فرسودہ نظام ایک دن میں پلٹ جائے گا ۔ لیکن حقیقت کیا رہی اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں-

اصل مسائل کی جانب نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے ۔ عمران خان نے 22 سال جدوجہد کے بعد اقتدار اعلیٰ کا منصب سنبھالا ۔ لیکن 30 اکتوبر 2011 کے بعد تحریک انصاف میں دھڑادھڑ الیکٹ ایبلز کی شرکت ہونے لگی ۔ 2013 میں عمران خان کے اعتماد کا یہ عالم کہ شکست کو ذہنی طور پر تسلیم ہی نہ کر سکے اور حکومت کو مفلوج کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا ۔ عوام اندھا اعتماد کرنے لگی اور ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دو خاندانوں کی کرپشن بنا دیا گیا ۔ الیکشن کے بعد خان صاحب کرسی کے نشے میں اتنے دھت ہو گئے کہ اپنے پرانے رفقا کو ملنے کا بھی وقت نہیں رہا –

بات ہے 3 نومبر 2007 کی ۔ اس وقت کے ڈیکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا نفاذ کیا اور سیاسی قیادت کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ۔ عمران خان کے گھر پر چھاپہ پڑا ، یہ تو سب جانتے ہیں کہ عمران خان 10 فٹ اونچی دیوار پھلانگ گئے لیکن درحقیقت وہاں کا منظر کیا تھا ۔ اس وقت زمان پارک لاہور والے گھر میں عمران خان کے قریبی دوست (جو اس وقت انتہائی قریب تھے اب نہیں) سلمان ظفر موجود تھے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بھاری بھرکم بلوچ سردار کے کاندھے پر عمران خان نے پاوں رکھے اور دیوار کے اوپر جا کر سلمان ظفر کو اوپر کھینچا ۔ جس کے بعد دونوں زمان پارک سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ سلمان ظفر اپنی فیملی کے ساتھ عمران خان کو ذاتی گاڑی میں بٹھا کر پولیس اور دیگر اہلکاروں سے چھپتے چھپاتے اسلام آباد پہنچانے میں کامیاب ہوئے جہاں انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کرنا تھا ۔

یہ وہی سلمان ظفر ہیں جو تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے ممبر رہے عینی شاہدین جانتے ہیں کہ سلمان ظفر کا عمران خان سے کیا تعلق تھا ۔ لیکن الیکشن 2013 میں جب عمران خان نے سلمان ظفر کو الیکشن لڑنے کیلئے علیم خان کو اہلیت کا انٹرویو دینے کا کہا تو بلوچ سردار کی غیرت نے گوارہ نہ کیا اور کور کمیٹی کے سابق ممبر کو پارٹی ٹکٹ جاری نہ ہوا ۔

اسی طرح فیصل آباد ڈویژن کی چھوٹی سی تحصیل میں الیکشن سے 2 ماہ پہلے پارٹی وفادری تبدیل کرنے والے ایم این اے موصوف نے اپنی تحصیل میں بانی کارکنوں کی تنظیم کو تحلیل کر دیا اور اپنے بندوں پر مشتمل تنظیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا (جس کی گنجائش پارٹی آئین میں موجود نہیں) اس تحصیل کے عہدیداروں کے ساتھ پی ٹی آئی سنٹرل سیکرٹریٹ جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ اور یہ مسئلہ شاید پورے ملک کی تنظیم سازی کے ساتھ درپیش تھا ۔

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان کے نظریہ کو لبیک کہا اور ہر تحریک میں ساتھ دیا ۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد جہاں وزیر اعظم اپنی پارٹی کی تنظیم سازی بھول گئے وہیں سلمان ظفر جیسے کئی کارکن عمران خان سے صرف ایک ملاقات کر کے دل کا درد سنانے کا وقت مانگ رہے ہیں
اب بات کرتے ہیں مستقبل کی تو تحریک انصاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے کیوںکہ یہ موروثی پارٹی نہیں ۔ اسے نوجوانوں کی جماعت بھی کہا جاتا ہے لیکن اب چل کیا رہا ہے؟

گزشتہ 8 ماہ میں وفاقی کابینہ سے 4 وزرا کو گھر جانا پڑا اور قیاس آرائیاں ہیں کہ شاید وزیر پٹرولیم کو بھی گھر بھیج دیا جائے ۔ تاحال ذرائع کے مطابق اسد عمر سے خزانہ کا قلمدان واپس لے کر انہیں وزارت پٹرولیم عطا کی جائے گی ۔ لیکن دوسری جانب اقتدار کے حلقوں میں شروع ہونے والی لڑائی سنگین نوعیت اختیار کر گئی ہے ۔ پاکستان میں صدارتی نظام کی بجائے اب “اسلامی صدارتی نظام” لانے کی بازگشت ہے ۔ شہر اقتدار کے ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم اور دیگر حلقوں میں سرد جنگ جاری ہے جسے جیتنے اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے کسی نہ کسی بکرے کی قربانی دی جائے گی ۔ کہیں وہ بکرا جنوبی پنجاب کے بکروں والے قبیلے سے ہی نہ چنا جائے جس کے خلاف 30 لاکھ روپے رشوت کا الزام لگے ، اور اسے گھر بھیج کر کرپشن کے خلاف جنگ کا نعرہ مستانہ سچ کر کے دکھا دیا جائے ۔ سنا ہے کہ یہ رشوت ستانی کی فائل پنجاب کے بڑوں نے تیار کرلی ہے ۔ وہ اکیلا نہیں ہو گا اس کے ساتھ شاید 12 چھوٹے بھی گھر بھیج دیے جائیں ۔ ملک سے سب سے بڑے صوبے میں پہلے ہی سال میں بڑی ہلچل اور مفاد پرستوں کی جانب سے ہونے والی سازشیں جوش ماریں گی ۔ تحریک انصاف کو اپنی ہی پارٹی کے دیگر دو دھڑوں کو سنبھالنا شاید اتنا مشکل نہ ہو جتنا ن لیگ اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ جس کیلئے فارمولا طے پا رہا ہے ۔ شاید ق لیگ کو دگنی وزارتیں اور اسپیکر شپ آفر ہو جائے تو ق لیگ کے آٹھوں ایم پی ایز کی موجیں لگ جائیں گی ۔

دوسری جانب اسلام صدارتی نظام کی بات کریں تو اس کا فارمولا 2015 میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل مرحوم نے ایک ٹاک شو میں بیان کر دیا تھا ۔ ان کے مطابق نوجوان نسل تبدیلی چاہتی ہے جو جمہوریت سے ممکن نہیں ہو گی اور نئی نسل ہر تبدیلی کے نعرے سے مایوس ہو جائے گی ، جس کے بعد خلافت کی طرز پر پاکستان میں بھی اسلامی صدارتی نظام ہو گا ۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ آئندہ ایک سال میں صدارتی انتخاب کیلئے ایک ایسی شخصیت منظر عام پر آئے گی کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرے گا ۔ کچھ لوگوں کے مطابق وہ شخصیت اس وقت پاکستان میں موجود نہیں لیکن ان کی شخصیت عالم اسلام میں انتہائی معتبر ہے ۔ اسلامی صدارتی نظام میں پاکستان کو عالم اسلام کا مرکز بنایا جائے گا اور اس کیلئے شخصیت بھی ایسی ہی چنی جا رہی ہے جو اسلامی اتحاد کی سربراہی کرنے کی اہلیت رکھتی ہوگی ۔

اس وقت سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار سرگرم ہے اور ملکی حالات جس تباہی کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں وہ چند ماہ میں سامنے ہو گا ۔ یہ طبل جنگ شاید نواز شریف کے دور میں بج چکا تھا جس کے بعد حالات کو اس طرف موڑا جا رہا ہے ۔ اسی لیے عمران خان صاحب اپنی سیاست بچانے کیلئے پہلے وفاق میں 8 وزرا پر چھری چلانے کی تیاری میں ہیں اور اس کے بعد یہ نزلہ پنجاب میں گرے گا ۔ لیکن خان صاحب کو شاید اب معلوم ہوا ہے کہ حقیقی تبدیلی اب آئے گی ۔ ان کے الیکشن جیتنے سے فرق نہیں پڑا ۔ ہاں اگر آپ نے اپنے وفاداروں کو نہ چھوڑا ہوتا اور اپنے محسنوں کو ساتھ لے کر چلتے تو آج حالات مختلف ہوتے

اعیان سندھو
change in pakistan

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں