sufi conference in karachi 48

کراچی: محکمہ ثقافت کی طرف سے دو روزہ چوتھی صوفی کانفرنس کا آج صبح سے آغاز

کراچی: محکمہ ثقافت کی طرف سے دو روزہ چوتھی صوفی کانفرنس کا آج صبح سے آغاز

ذوالفقار کھوسو نمائندہ انقلاب نیوز حیدرآباد

افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی فریال تالپور, مختلف ممالک سے اسکالرز, محققین اور بہت بڑی تعداد میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے شرکت کی، کانفرنس کا آغاز شاہ عبدالطیف کے راگ سے کیا گیا اور شاہ لطیف کا راگ تائیوان کی اسکالر پی-لنگ ہئانگ نے بھٹ شاہ کے فقیروں کے ساتھ پیش کیا۔ تائیوان کی پی-لنگ ہئانگ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے شاہ لطیف کی راگ پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، صوفی کانفرنس میں شرکت کے لیے 13 ممالک سے اسکلرز, محقق نے شرکت کی اور اس کے علاوہ ملک بھر سے اسکالرز بھی شریک ہوئے-

کانفرنس کا افتتاحی سیشن میں مہمانوں کو ویلکم اسپیچ دیتے ہوئے سردار شاہ نے کہا کہ سندھ کے صوفی ازم کے پیغام, محبت اور ہم آہنگی سے پوری دنیا روشناس ہے. اس کانفرنس کی توسط سے ہمیں دنیا بھر میں دہشتگردی, انتہاپسندی اور عدم برداشت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بحث مباحثے اور علم و تحقیق کے تبادلے کا موقع ملا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جب سیوھن میں قلندر شہباز کی مزار پر بم دھکامہ ہوا تو اسی دن ہم نے وہاں دھمال ڈالی اور دہشتگردوں کو دھماکے کا جواب دھمال سے دیا اور بم کا جواب بیت سے دیا۔

یہی سندھ کے صوفی ازم کا نفرت کے بیوپاریوں کو محبت کا جواب ہے، انہوں نے تمام ملکی و غیرملکی سے آئے اسکالرز کو خوش آمدید کہا، ان کے بعد مہمان خصوصی فریال تالپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ ثقافت کو عالمی صوفی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی، انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے عنوان سے ہی واضع ہے کہ گلوبلائیزیشن کے اس دور میں دنیا کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سمیت عدم برداشت اور فرقیواریت جیسے مسائل کا سامنا ہے اور ایسے وقت میں صوفی ازم ہی دنیا میں قیام امن کے لیے ایک بہتر ثقافتی بیانیہ ثابت ہوسکتا ہے-

فریال تالپور نے کہا کہ ہم سب کو ملکر صوفی ازم کے پیغام کو پوری دنیا میں خصوصی طور پر نوجوان نسل میں عام کرنا ہے، انہوں نے کہا ہم امن کے پیامبر, محبت کے داعی اور عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور ہمارے صوفی شعراء شاہ لطیف, سچل سرمست اور دیگر نے ہمیشہ تمام دنیا کے لیے امن و خوشحالی کا پیغام دیا۔ کانفرنس کا پہلا سیشن “صوفی ازم, قیام امن اور گلوبلائیزیشن” ہوا جس میں جرمن اسکالر ڈاکٹر وان ہوگ اسکائہاک, پولینڈ سے آئی پروفیسر کامیلا یونق لیونیسکا اور اسلام آباد کے ڈاکٹر شہزاد قیصر, ڈاکٹر ذوالفقار کلہوڑو نے اپنے اپنے تحقیقی پیپرز پیش کیے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں