standard of journalism 116

صحافت کا معیار

تحریر : رانا عاشق علی تبسم ڈسکہ

میرے نزدیک صحافت ایک مقدس اور وابسطہ لوگ بہت محترم ہیں ۔ صحافی حضرات اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے سماج میں اچھے برے کی تمیز کی کرتے ہوئے بہتری کے لئے اپنے جان تک کی پرواہ کیئے بغیر اپنی ذمہ داریاں نبھانیں میں مصروف رہتے ہیں صحافی ایک کھوجی کا کام بھی انجام دیتا ہے جس کا مقصد آپ بخوبی واقف ہیں ۔۔۔۔۔

دنیا کے معاشرے کے واقعات کو ایک آدمی تک پہنچانے میں کوشاں رہتے ہیں۔ مگر کچھ اداروں اور نے صحافت کے تقدس کو پامال کرنے میں کوشاں ہیں۔ چند دن قبل میرا ایک عزیز جو میڈیکل پریکٹس کرتا ہے اس کے پاس چند افراد تشریف لائے اور صحافت سے وابسطگی ظاہر کی اور کیا کہ میں گوجرانوالہ سے 7نیوز کا ڈپٹی بیورچیف ہوں عزیز کی معصومیت اس نے پانی وغیرہ پلایا ۔اور صحافی حضرات فرمائے لگے آپ کے پاس کونسی ڈگری ہے اور پوچھ وہ رہا ہے جس نے سکول سے آگے کی منزل ہی نہیں دیکھی جسے انڈر میٹرک کہتے ہیں ۔ خیر اس کے بھولے پن نے اپنے دستاویز دکھا دئے ۔

اور ان کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ایک صحافی ہیں جو بہت معزز شخصیت کہلاتے ہیں میں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا اس کے کہنے پر آئے ہیں ۔ اس بھولے شخص سے روٹی پانی اور گوجرانوالہ سے آنے جانے کے لئے گاڑی کا کرایہ طلب کیا اس نے بغیر حجت کے انکی ڈیمانڈ پوری کردی۔ خدارا میری صحافی حضرات جو باشعور ہیں اپنے ارد گرد اور ادارے سوچ سمجھ کر اسکی تعلیم اسکے کردار کی بنیاد پر نمائیندگی عطا کریں ایسے لوگوں سے قطع نظر اور تعلق رکھیں جو غریب معصوم لوگوں کو بلیک میل کرکے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں اس دفعہ ان کو چھوڑ دیا آئیندہ اسے چھوڑا نہیں جائے گا فراڈ 420 کے تحت پولیس کے حوالے کیا جائے گا جو اس طرح کا ذہن رکھتے ہیں کیوں اپنی زندگی تباہ کررہے ہو کوئی کام کرو کوئی محنت مزدوری کرو رزق حلال کی تلاش میں نکلو خدا مدد کرنے والا ہے۔ اگلی دفعہ معافی نہیں ہوگی جیل ہوگی ۔بلیک میل افراد کو آگاہ کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں