social media conference in islamabad 18

وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کو ادارہ تسلیم کرکے اسکی سمت درست کی جائے۔ پازیٹو پاکستان

وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کو ادارہ تسلیم کرکے اسکی سمت درست کی جائے۔ پازیٹو پاکستان

باہمی احترام کے فروغ ، مہذبانہ اختلاف رائے، گالم گلوچ اور الزامات کے کلچر کا خاتمہ ہونا چاہیے، مقررین

اسلام آباد (پریس ریلیز) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقدہ سوشل میڈیا ٹالکتھون سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کو ادارہ تسلیم کرلیا جائے اور اسکو مانیٹر کرنے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنائی جائے۔ ٹیکنالوجی کو انارکی کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ اس کے درست استعمال کا شعور دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

مقررین میں ایم این اے علی محمد خان، عابد اقبال کھاری، عثمان رضا ، عمیر رضا، سید طلعت حسین ، مجاہد منصوری ، فرخ ڈال ، احمد جواد بھاٹی ، ماریہ اقبال ترانہ ، ڈاکٹر شاہد صدیقی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی. صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی تھی کہ باہمی احترام کے فروغ ، مہذبانہ اختلاف رائے، گالم گلوچ اور الزامات کے کلچر کے خاتمے اور اخلاقی کیلئے باہمی احترام کے فروغ ، مہذبانہ اختلاف رائے، گالم گلوچ اور الزامات کے کلچر کے خاتمے اور اخلاقی تربیت پر آگاہی سیمینار حکومتی سطح پر منعقد کروائے جاتے۔ مگر اب یہ ذمہ داری پازیٹو پاکستان نے لے لی ہے۔

تقریب میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کو اسی طرح کے مثبت سوچ کے حامل افراد اور تنظیمات کی ضرورت ہے۔ ایسے پروگرامز منعقد کروانے سے منفی سوچ اور رویوں کی حوصلہ شکنی اور مثبت اور مفید رویوں کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں۔ نظریات اور آرا کی ہم آہنگی سے اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے اور قومی مفادات کے حصول کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔

کانفرنس میں سپیکرز نے قومی تشخص کو ابھارنے ، اسلامی اقدار اور روایات کو فروغ دینے، سوشل میڈیا کے ذر یعے انتہا پسندانہ نظریات اور رویوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور باہمی احترام کے رویوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ پروگرام کے آخر میں نائب صدر پازیٹو پاکستان عثمان رضا نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ پازیٹو پاکستان اپنی توانائیاں مثبت سمت میں صرف کرتی رہے گی۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں