social media and our role 32

سوشل میڈیا اور ہمارا کردار۔۔۔۔۔

سوشل میڈیا اور ہمارا کردار۔۔۔۔۔

انقلاب نیوز

سوشل میڈیا اس طرح ہے کہ دنیا کو ہم اپنی جیب میں لئے بیٹھے ہیں جس طرح کا استفادہ ہمیں حاصل کرنا چاہئے تھے پاس ہوتے ہقئے بھی ہم محروم ہیں۔ کسی حد تک سوچا جائے تو یہ اللہ کی نعمتوں میں ایک نعمت ہے اس سے ہم ہما وقت دنیا سے با خبر رہ سکتے ہیں ۔ حتی کہ اپنی زندگی گزارنے کے اصول معاشرتی ہیں یا مذہبی سب کچھ ہماری پہنچ سے بالکل قریب ہے۔

اس کے علاوہ اپنے حالات و جذبات سے دوسروں کو اور دوسروں کے احساسات حالات و واقعات سے آگاہ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک وقت ہم نے وہ بھی دیکھا ہوا ہے کہ دنیا سے باخبر رہنے کے لئے ریڈیو تک محدود تھے اس کے بعد ٹی وی آیا اس نے ریڈیو کی لے لی گئی اور دلچسپ یہ بات تھی ریڈیو ہو یا ٹی وی ایک سو آبادی میں زیادہ سے زیادہ دو ریڈیو اور پھر ٹی وی کی بھی یہی صورت حال تھی۔

آہستہ آہستہ اللہ نے انسان کے ذہن کو کھولا اور کلر ٹی وی کا دور آگیا آج سے بیس سال پہلے ہر کسی کے پاس ٹی وی نہیں ہوتا تھا بیس سالوں میں اب گھر کے جتنے افراد ہیں سب کے بیڈروم میں ٹی وی دکھائی دینے لگے کچھ عرصہ گزرا تو انٹرنیٹ نے اپنی جگہ گھر گھر لی اور وہ تب استعمال کیا جاتا جب کسی کے بیرون عزیزواقارب رہتے تھے ان سے بات کرنے کے اس سے قبل صرف پی ٹی سی ایل کا کنکشن ہوا کرتا تھا جس سے صرف آواز سنائی دیتی تھیں اس سے قبل چلے جائیں جب فون نہیں ہوا کرتے تھے خط و کتابت کے ذریعے ایک دوسرے کے حالات واقعات سے آگاہ ہونا پڑتا تھا۔

پچھلے دس سالوں میں انسان نے اتنی ترقی کی کہ یہ سب کچھ صرف ایک چیز میں ضم کردیا ۔ ہم موبائیل کے ذریعے ریڈیو ٹی وی خط و کتابت فون کال وڈیو فون کال یہ تمام چیزیں انسان کو اللہ نے عقل و شعور دیا اور جب جب جس چیز کی ضرورت پڑتی گئ اللہ انسان کا ذہہن و عقل میں اضافہ فرماتا جاتا اور وہ بناتا رہا حتی کہ ایٹم بم بنانے کا شعور عطا کیا وہ بنا ڈالا مگر وہ موضوع الگ ہے۔ ہم یہاں بات کررہے ہیں سوشل میڈیا کی اب ہم نے اپنا احاطہ کرنا ہے کہ میں اس نعمت سے کیا استفادہ حاصل کیا۔

دوسری قومیں سوشل میڈیا سے اپنے علم و عمل میں اضافہ سیکھنے کے درپے اور ہم سوشل میڈیا کو منفی ہتھ کنڈوں انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں 20 فیصد لوگ موبائیل خریدنے کی اہلیت رکھتے ہیں باقی غریب لوگ سوشل میڈیا کے استمعال کے لئے گھر والوں کو مجبور کرکے قسطوں میں موبائیل خرید لیتے ہیں جو خود بھی مجبور اور گھر والوں کو بھی مجبور کرتے ہیں ۔ سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں آپکی زندگیوں کے اچھے پہلووں میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگے گیں۔ ہم سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے لئے ہمیشہ منفی سوچ رکھتے ہیں ۔

جیسے اب الیکشن اپنے جوبن پر ہے اور اسکی تیاریاں کی جارہی ہیں چلیں اپنی پسندیدہ پارٹی کی تشہیر ضرور کریں اپنا منشور کھل کر سامنے رکھیں ۔مگر ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر اس کا چرچا کیا جائے اور جس سے وہ شرمندہ ہو۔ حتی کہ ہم میں بہت سارے لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ اپنی معیارے زندگی کو تباہ کا سبب بننے کو تیار ہیں۔۔۔۔۔ جاری ہے

رانا عاشق علی ڈسکہ

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں