pashtuns against ptm 41

پشتونوں کے ہاتھوں دفن ہوتی پی ٹی ایم

علی وزیر اور محسن داؤڑ کی گرفتاری پر کوئی ایک پشتون باہر نہیں نکلا۔
جس ” عالمی برادری” کے بھروسے پر یہ سب کیا جا رہا تھا ان کی طرف سے بھی نہ ہونے کے برابر ردعمل آیا۔

یہ پی ٹی ایم کے لیے پہلا بڑا جھٹکا تھا۔

اس کے بعد سے پی ٹی ایم لیڈروں کی مسلسل گرفتاریاں جاری ہیں اور بہت سے روپوش یا بھاگے ہوئے ہیں۔

منظور پشتین خود وزیرستان جانے سے خوفزدہ ہے۔
اس کو یقین ہے کہ وہاں اس کو گرفتار کر لیا جائیگا جس کے بعد بچی کچھی تحریک بھی دم توڑ جائیگی۔

پی ٹی ایم کے گڑھ وزیرستان کی حالت یہ ہے کہ وہاں ہونے والے الیکشن میں چار میں سے تین حلقوں میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی جیت یقینی ہے۔
صرف داوڑوں والا حلقہ پی ٹی ایم جیت سکتی ہے جس کی وجہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں ان کے بازار کی تباہی ہے۔
حکومت ان کا نقصان پورا کردے تو پی ٹی ایم کے ہاتھ کچھ نہیں بچے گا۔

وزیرستان میں عوام کی اکثریت پی ٹی ایم کو ” ڈمان ” کہتی ہے۔ ڈمان کا اردو مفہوم “کنجر” سمجھ لیجیے۔

جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کی افغان ایجنسیوں سے فنڈنگ کا انکشاف کیا تھا۔ وہ تمام لنکس توڑ دئیے گئے ہیں جس کے بعد اس وقت پی ٹی ایم کو شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔

وہ پی ٹی ایم جو کل تک منظور کر پشاور اور اسلام آباد میں کروڑوں روپے کے گھر خرید کر دینے کا اعلان کر رہی تھی اس وقت ضمانتوں کے پیسے پورے نہیں کر پارہی۔

منظور پشتین روز اسلام آباد کے کسی کونے سے کھوکھلے لہجے میں کارکنوں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ ” پی ٹی ایم ابھی ختم نہیں ہوئی”
لیکن ہر بار چند منٹ کی اس تقریر میں وہ اتنی چولیں مار لیتا ہے کہ اب اس کی تقریریں مذاق بن کر رہ گئی ہیں الطاف حسین کی طرح۔

افغان مارکہ اس تحریک کا لب لہجہ ایسا رہا جس نے پورے پاکستان میں پی ٹی ایم اور افغانیوں کے خلاف نفرت کے ایک طوفان کو جنم دیا ہے۔
پاکستان میں مقیم افغانی جو ان کا سب سے بڑا سہارا تھے اب پی ٹی ایم سے اپنے تعلق کے ثبوت مٹانے کی کوششوں میں ہیں کیونکہ ان کو اس کی وجہ سے پاکستان سے مستقل بنیادوں پر نکالے جانے کا خدشہ ہے۔

پی ٹی ایم کی سب سے بڑی طاقت سوشل میڈیا تھی جہاں ایک کے بعد ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد اب ان کے پاس سوائے گالیوں اور بدعاؤوں کے کچھ نہیں بچا ہے۔

سچائی یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت پشتون کر رہے ہیں۔
پشتون ان کو اپنے لیے ٹی ٹی پی جیسا خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا چیک کیجیے آپ کو ہر جگہ پر پشتون ہی پی ٹی ایم کا مقابلہ کرتے نظر آئنگے جن کو پی ٹی ایم طنزاً گل خان اور سمسیرے جیسے خطابات سے نوازتی رہتی ہے۔
پشتونوں کے ہاتھوں پی ٹی ایم کی جو حالت لندن میں ہوئی وہ بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔

پی ٹی ایم پشتونوں کے ہاتھوں دفن ہونے کے قریب ہے۔

نوٹ ۔۔۔ چند پشتونوں نے پاکستان اور افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے جگہ جگہ پوسٹرز لگانے کی تحریک شروع کی ہے جس کے نمونے میں کمنٹ میں پوسٹ کرونگا۔
جو جو ان کا ساتھ دینا چاہیں کمنٹس میں آگاہ کیجیے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں