provisional minister culture and tourism, inklaab news , hyderabad , inqilab news , inquilab news , pakistan 44

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ 60 سال بعد بھنبھور پر کام شروع کر دیا

ذوالفقار کھوسو نمائندہ انقلاب نیوز حیدرآباد
صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ 60 سال بعد بھنبھور پر کام شروع کیا ہے جوکہ سندھ کی سیاسی، سماجی، مذہبی و اقتصادی تاریخ کے نئے زاویے پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نیشنل میوزیم کے شمشیر الحیدری آڈیٹوریم میں منعقدہ بھنبھورکی قدیمی سائیٹ پر اٹلی کے آرکیالاجسٹ اور محکمہ نوادرات سندھ کے ماہرین آثار قدیمہ کی طرف سے کی گئی ایکسکیویشن کی بریفنگ کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر اٹلی کے آرکیالاجیکل مشن کی سربراہ پروفیسر ویلیریا، اٹلی کی کراچی میں قونصل جنرل ایناروفینو، ڈی جی اینٹی کوئیٹیزمنظور قناصرو، پی پی پی کلچرل ونگ سندھ کے صدر قاسم سومرو اور دیگر افسران اور بڑی تعداد میں آرکیالاجی کے شعبے سے متعلقہ لوگ شریک تھے۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ 1956 سے 1962 تک ڈاکٹر ایف اے خان کے بعد کسی نے بھنبھور کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ ایف اے خان نے 1959 میں بھنبھور پر ایکسویشن کا کام کیا اور 1959 سے اگر دیکھیں تو 2011 تک کتنا لمبا عرصا گذرا لیکن اس دوران کوئی کام نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے آنے کا بعد ہم نے یہ طئے کیا کے سب سے پہلے فنڈز مختص کئے جائیں، ہماری بجٹ ایسی تھی جس میں کانٹی جنسی کے لئے فنڈز تھے، دفتر کے اختراجات کے لئے پیسے رکھے ہوئے تھے مگرکوئی ہیڈ ایسا نہیں تھا جس میں یہ لکھا ہوتا کہ یہ فنڈز ایسکیویشن کے لئے رکھے جا رہے ہیں۔ ایسکیویشن کے بغیرے آپ کسی بھی سائیٹ کا کیسے پتا لگا سکتے ہیں رنی کوٹ کے حوالے سے ہمارے آرکیالاجسٹ آج تک تُکے مارتے رہے کہ رنی کوٹ ساسانیوں نے بنایا ہے یا فلان نے بنوایامگر کوئی ریسرچ نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمے کی طرف سے صوبے بھر میں گھوٹکی سے لے کر ننگر پارکر تک بہت سی آثار قدیمہ کی سائیٹس پر کام ہو رہا ہے اور ایسکیویشن کے ذریعے بہت سی جگہوں سے مزید دریافتیں ہونے کی امید ہے۔ ان سے پہلے اٹلی کی آرکیالاجسٹ پروفیسر ولیریا نے بھنبھور پر کی گئی کھدائی کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ کھدائی کے کام کے دوررس اثرات مرتب ہونگے کیونکہ وہاں سے دریافت کی گئی نوادرات نہ صرف سندھ، پاکستان کی مجموعی تاریخ میں نئے زاوئے لائیں گے بلکہ اس کے ساتھ پورے خطے کی سماجی، مذہبی، سیاسی و اقتصادی تاریخ کو نیا موڑ ملے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اٹلی اور محکمہء نوادرات کے آرکیالاجسٹ نے ملک کر 20 دسمبر 2017 سے 8 فروری 2018 تک بھنبھور میں کھدائی کا کام کیا جہاں سے ان کو 12 ہزار 5 سو نوادرات حاصل ہوئے ہیں جن میں مٹی کے برتن، رنگ و روغن والے برتن، سکے، ہاتھی اور دیگر جانوروں کی ہڈیاں، سپیون، منکے، لوہے اور تانبے کے اجزاء، شیشے کے ٹکڑے، جانوروں کے کھلونے اور ایک بڑا سینگھ شامل ہیں اور ان تمام نوادرات کی مزید تفصیلات اور نتائج مزید تحقیق کے بعد سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بھنبھور پر کی گئی تازہ مشق سے وہاں کچھ عمارتوں کے اسٹرکچر دریافت ہوئے ہیں ایک بڑا گھرکچھ چھوٹے گھر، کمرے، گلیاں اور گودام شامل ہیں۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں تباہی ہونے سے پہلے تک آخری وقت میں بھی شہری زندگی اپنے عروج پر تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شمال مشرقی اراضی میں کی گئی تحقیق سے وہاں پر آبپاشی پر دارمدار رکھتا ہوئا زراعتی نظام، کینالز، بئریج اور ہنری سرگرمیاں کے شواہد مل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ آثارقدیمہ نویں سے تیروہیں صدی کے درمیان عرصے کے نوادرات بھی میں ملے ہیں۔
آخر میں اٹالین قونصل جنرل نے صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ اور سیکریٹری کلچر اکبر لغاری، ڈی جی اینٹی کوئیٹی منظور قناصرو کی کوششوں سراہا اور بعدازان مزید تحقیق کے سلسلے میں باہمی تعاون کے …

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں