protest in tharparkar 56

تھرپارکر کے قحط متاثرین کو گندم کے لئے امدادی گندم پر دربدر کرنے کا سلسلہ جاری۔

مریم صدیقہ نیوز ڈائریکٹر انقلاب نیوز حیدرآباد

ڈیپلو میں متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ۔مننخب نمائندے کی آصف علی زرادری کو شکایت بھی ابھی تک کام نہیں آئی۔تھرپارکر میں قحط متاثرین کو سندھ حکومت کے ہر متاثر کو پچاس کلو گندم تحصیل ھیڈکوارٹر سے اٹھانے،نادرا کے لسٹ میں اندراج نہ ہونے اور گداموں پر جاری بدانتظامی نے متاثرین کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

protest

تھر کے قحط متاثرین کو ڈیپو کیپروں کے زریعے گائوں گائوں تک گندم پہنچانے کے لیے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمیں آصف علی زرداری کو منتخب ایم پی اے ارباب لطف اللہ کی شکایت بھی ابھی تک کام نہیں آئی جبکہ ایم پی اے کی شکایت بعد آصف زرداری نے وزیر اعلی سندھ کو گندم گائوں تک پہنچانے کی ھدایت کی لیکن ابھی تک تھر میں متاثرین گداموں پر پچاس کلو گندم کےلیے دھکے کھارہے ہیں۔

امدادی گندم کے لیے نادرا کی لسٹوں میں نام نہ ہونے اور بدانتظامی خلاف ڈیپلو میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور انتظامیہ خلاف نعرے بازی کی۔تھر میں قحط متاثریں کے لیے سندھ حکومت نے گائوں تک ٹینکروں کے زریعے پانی پہنچانے اور مویشیون کے لیے چارہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر تاحال اسی اعلانات پر عمل نہیں ہوئا ہے اور نہ ہی قحط مسئلے کا مستقل حل نکالا جارہا ہے صرف پچاس کلو گندم میں ہی تھرکےلیے لوگوں کو الجھا دیا گیا ہے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں