41

کراچی پریس کلب میں جعلسازی کے ذریعے غیر صحافیوں کو ممبرشپ دینے اور روشن خیال صحافیوں کو ممبرشپ سے محروم رکھنے کے خلاف جرنلسٹس ایکشن کمیٹی نے سندھ اسمبلی کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دے دیا

رحمان اللہ نمائندہ انقلاب نیوز کراچی

کراچی پریس کلب میں جعلسازی کے ذریعے غیر صحافیوں کو ممبرشپ دینے اور روشن خیال صحافیوں کو ممبرشپ سے محروم رکھنے کے خلاف جرنلسٹس ایکشن کمیٹی نے سندھ اسمبلی کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دے دیا۔
اسپیکر سندھ اسمبلی ، صوبائی وزراء اور درجنوں ارکان اسمبلی نے صحافیوں کے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی

صحافیوں کے اجتماعی گھر پریس کلب میں جعلی اور غیر صحافی لوگوں کو ممبرشپ دینے کے خلاف ورکنگ جرنلسٹس کا احتجاج جاری ہے
منگل کے روز صحافیوں نے سندھ اسمبلی کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دے دیا صحافیوں کا احتجاجی دھرنا چار گھنٹے تک جاری رہا صحافیوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ پریس کلب میں جعلسازی کے ذریعے بھرتے کیئے گئے غیر صحافیوں کو شفاف اسکروٹنی کے ذریعے بے دخل کیا جائے۔
احتجاج میں شامل صحافیوں نے کہاکہ سندھ حکومت صحافیوں کی فلاح کیلیئے پریس کلب کو سالانہ کروڑوں کی گرانٹ اور پلاٹ دیتی ہے جن کا غلط استعمال ہو رہا ہے ، برسوں سے کلب پر قابض ٹولا جعلسازی کے ذریعے روشن خیال صحافیوں کا استحصال کر رہا ہے ۔
صحافیوں کے احتجاجی کیمپ پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی پہنچے اور صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ روشن خیال صحافیوں کے ساتھ ہیں اس سلسلے میں وزیر اعلی سندھ سے جلد رابطہ کیا جائیگا،
کیمپ پر صوبائی وزیر مکیش کمار چاؤلہ بھی تشریف لائے اور ورکنگ جرنلسٹس سے اظہار ہمدردی کرتے ہوے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ، صوبائی وزیر سعید غنی ، سید اویس قادر شاہ اور باری پتافی بھی احتجاجی کیمپ پر پہنچے انھوں نے احتجاج میں شامل صحافیوں سے اظھار یکجہتی کیا۔
رکن سندھ اسمبلی شمیم ممتاز ، رانا ہمیر سنگھ ، منور وسان سمیت درجنوں ارکان نے کیمپ میں آ کر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔
احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوے نامور صحافی مسعود رضا کا کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب جیسے ادارے میں جعلی ممبرشپ کے ذریعے غیرصحافیوں کا داخلہ کسی صورت قبول نہیں، مقبوضہ پریس کلب کو آزاد کراکے دم لینگے۔ جرنلسٹس ایکشن کمیٹی کے اراکین منور عالم، غازی جھنڈیر، فواد محمود، عبید اعوان، حمید سومرو،ملک منور حسین، سہنی پارس نے اعلان کیا کہ اگر سندھ حکومت نے صحافیوں کو طبقات میں بانٹ کر من پسند ٹولے کو کروڑوں کی گرانٹ جاری کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو اگلے مرحلے میں صحافی کراچی پریس کلب سے احتجاجی مارچ کرتے ہوے وزیر اعلی ہاوس کے سامنے پہنچ کر دھرنا دینگے اور وہ دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہیگا۔
احتجاج میں سینیئر صحافیوں یوسف جوکھیو، شمشاد خان ، سید حسن رضا کاظمی، سید اظہر عباس نقوی، شوکت زرداری، پرویز جٹ،حمید سندھو، سبین میمن، اقبال خاور، راحب بپر، اختر روہیلہ سمت دیگر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں