pakistan society , inklaab news , inklaab , inquilab news , inqilab news , pakistan , pakistan news , election 2018 , pakistan , 325

ہم کس گلی جا رہے ہیں ؟

ہم کس گلی جا رہے ہیں ؟
انقلاب نیوز
نیوز روم میں بیٹھے کام کے دوران ایک خبر موصول ہوئی جس نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ، خبر تھی کہ گھوٹکی کے نواحی علاقے اوباڑو میں لڑکی کو ونی کر دیا گیا ، اس اقدام کے خلاف ونی ہونے والی لڑکی نے ماں باپ کو زہر دے کر خود بھی پی لیا اور موت کو گلے لگا لیا ،،، خبر کی تفصیلات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مرنے والی کے بھائی نے 3 ماہ قبل اپنے گاوں کی ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی جس کے بعد وہ تو گاوں سے فرار ہو گیا لیکن پیچھے اس کا خاندان ختم ہو گیا ،، نہ والدین رہے نہ ہی بہن ،،، اور اگر رہ گئے تو صرف مذمتی بیانات
دوسری جانب سوشل میڈیا پر 2 ایسے دوستوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا جن کے بارے میں ان کا ہر جاننے والا یک قالب دو جان کی گواہی دے سکتا تھا ،،، لڑنے کی وجہ معلوم ہوئی دو مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات رکھنے والوں کی بحث ذاتی لڑائی تک پہنچ گئی
ادھر تیسرا واقعہ سامنے آیا ،،، 4 بھائی ایک کمرے میں اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھے ،،، دوسرے کمرے سے والد نے آواز دی ،،، منجھلے نے چھوٹے کو فیس بک پر پیغام بھیجا ،،، ابا جی از کالنگ یو ،،، اور چھوٹے نے گیم بند کر کے میسج دیکھا جس سے اس کی جاری شدہ گیم کا لیول پار نہ ہو سکا اور بھائیوں میں جھگڑا ہو گیا
ایک اور خبر نظر سے گزری خاتون نے عدالت میں خلع کی درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اس کا خاوند اسے اس کے پسندیدہ ڈرامے کے ہیرو کی طرح محبت کا اظہار اور ‘پیار’ نہیں کرتا ،، اور گھر کا شیرازہ بکھر گیا
یہ چند خبریں کسی نہ کسی صورت ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں اور اکثر عام آدمی کی طرح میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں ؟ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی حد پھلانگ چکا ہے ، ہمارے ذہن کے بند دریچوں میں بھی خوف کے گہرے بادل ہیں ، ہمارا رقص بسمل جاری ہے لیکن نہ موت کے فرشتے کو ترس آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی ابن مریم ہماری مسیحائی کو تیار ہو رہا ہے ، آخر ایسا کیوں ہے ؟
شاید اس لیے کہ ہم نے یہ راستہ ‘بائی چوائس’ اختیار کیا ہے ، ہم نے خود کو غلام خود بنایا اور آج ہمیں اپنی زنجیروں سے محبت ہو گئی ، آج ہمارے لیے لاکھوں کی تنخواہ بھی کم ہے اور کاروبار میں کروڑوں کا منافع بھی ہمارا رونا ختم نہیں کر پا رہا ، فروری کے اختتام پر ہی ہم نے گاڑیوں کے اے سی چالو کر لیے تھے کیونکہ ہمیں گرمی تو بہت لگتی ہے لیکن گلوبل وارمنگ کی جانب ہمارا کوئی خیال نہیں ، حکمرانوں کی جانب سے کی جانے والی کرپشن تو صاف نظر آتی ہے لیکن خدا کے نور کو گدلے پانی سے دی جانے والی آلودگی نظر نہیں آتی ، ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کیونکہ ہمارے مقاصد صرف اپنا سکون ، اپنا پیسہ ، اپنا آرام ہے ، کسی دوسرے کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ ‘میں’ نہیں ،،، لیکن دوستو وہ دوسرا بھی یہی سوچ رکھتا ہے اور وہ بھی آپ کو ڈسنے کی تیاری میں ہے
اخلاقی پستی کے شکار معاشرے میں قائم فرسودہ روایات تو ایک طرف ہم نے آج بھی صرف اپنے کپڑے ہی تبدیل کیے ہیں ، ہمارا معاشرہ پڑھا لکھا دکھتا ضرور ہے لیکن ہے نہیں ، آج بھی مختلف مقامات سے کہیں نہ کہیں کوئی کرب بھری چیخ سنائی دیتی ہے اور اس سسکیوں بھرے پیغام میں آنے والے سخت دور اور اس کے خطرات سے آگاہ کرنے کی ناکام کوشش جاری ہے ، ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہیئے جب یہ آواز بھی آنا بند ہو جائے اور آسمان پر وہ ستارہ نمودار ہو جس کے بعد توبہ کا آخری در بھی بند ہو جائے ، ہمیں بدلنا ہو گا اس سے پہلے کہ وقت بدل جائے
اعیان سندھو کالم نگار

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں