113

پاکستان کی تاریخ سے تاریخ بنتی جائے گی اور عوام لکھتی جائے گا۔

تحریر : رانا عاشق علی

پاکستان کی تاریخ سے تاریخ بنتی جائے گی اور عوام لکھتی جائے گا۔ پاکستان کی عوام کا ٹھہراو عجیب موڑ پر کھڑا ہوتا جارہا ہے ۔۔۔۔

برصغیر ہندستان سے ایک الگ پاکستان کے بننے کا خواب علامہ اقبال شاعر مشرق قلندر لاہوری علیہ رحمہ نے دیکھا اور لندن میں مقیم محمد علی جناح کا انتخاب کیا کہ اس میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو قوم کو لیڈ کر سکے اور پاکستان کے معرض وجود کی تکمیل کو پہنچا سکے ۔ شاعر مشرق جنہوں نے پاکستان کو اپنے اندر نقش کیا ہوا تھا مگر پاکستان کے معرض وجود سے پہلے ہی اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے تھے یہ وہ علامہ تھے آج کے علامہ ممبر مسجد جلسوں میں آپ کے اشعار پڑھے بغیر اپنی بات کو نامکمل سمجھتے ہیں ۔۔۔

شاعر مشرق کی کتب پڑھ کر دیکھیں سب کی سب معرفت اور اصول زندگی ہے آپ کے دل کے اندر عشق خدا عشق مصطفی اور عشق مخلوق خدا سے خالی نہ تھا۔ آپ کی شخصیت کے بارے بعد میں آہستہ آہستہ معلوم پڑنے لگے کہ آپ کون تھے لیکن کچھ عقل کے اندھےایسے اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جنہیں خبر نہیں اقبال کون تھے ۔۔۔۔۔

خیر آپ نے محمد علی جناح علیہ رحمہ کو بار بار خطوط لکھے ہندستان میں ایک آزاد خداداد ریاست بنانے کے لئے ہندستان تشریف لے آئیں بہت سارے افراد آپ کے زیر پرستی ایک الگ ریاست بنانے کے خواہشمند ہیں پہلے تو آپ نے ٹول مٹول سے کام لیتے رہے مگر مسلمانوں کے لئے دل میں تڑپ بھی رکھتے ۔ بالآخر آپ ہندستان تشریف لے مختصر آپ نے اپنے دوست و احباب اور مخلص افراد کے ساتھ ملکر ایک الگ ریاست پاکستان بنانے کی جدوجہد شروع کردی ۔۔۔

بالآخر تقسیم ہند کے وقت لوگ اپنی جائیدادیں محلات اور جاگیریں کو چھوڑ حتی کہ لاکھوں لوگوں کا خون اس ملک کو بنانے میں بہایا گیا تاکہ ایک ایسی ریاست اسلامی بھی ہو جمہوری بھی ہو ہر قسم کی قربانیوں کی پاداش میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ چسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام پر منسوب کیا گیا۔۔۔ عرصہ دراز سے اب صرف پاکستان کا نام رہ چکا ہے جس نے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام لیا اور حقیقت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان قائم رکھنے کی اور عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی وہ اپنے اپنے انجام کو پہنچا مطلب کسی نہ کسی طریقہ سے اس فرد کو راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ اس کے بعد حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن پاکستان کی عوام کی خوشحالی کے لئے کوئی کسی قسم منشور رکھتے ہوں۔ پاکستان کئی دفعہ برسراقتدار رہے انہوں نے جاگیر داری کو مضبوط کیا اور ملک کو خوب لوٹا ۔۔۔۔۔

ن لیگ کی حکومت اپنی کمیشن کے چکر میں موٹروے ۔ پل ۔ میٹرو وغیرہ بنانے میں مصروف رہی جو ان کے نزدیک بہت اعلی کام ہے ۔۔۔۔ صاحب اقتدار کا کام ہے سب سے پہلے اپنی رعایا کو وہ تمام سہولیات سے آراستہ کرے جس کی اس کو ضرورت ہے ۔ یہ چونچلے چند خاندان کے لئے ہوں گے ایک غریب کو اس سے کوئی مطلب نہیں عوام کو اس امر کی ضرورت ہے ہر شہری کو روزگار دے روزگار نہیں اسے بالا سود قرض دے جس سے وہ کاروبار کرے ۔ بے گھر کو جیسے کہ پنجاب حکومت کی ملکیت ہر جگہ موجود ہے اسے اس کی فیملی کے مطابق اسے رقبہ الاٹ کرے گھر بنانے کو بلا سود قرضے دے ۔ اس کو صاف پانی ۔ سستی گیس ۔ سستی بجلی سستا پٹرول مہیا کرے ۔ اچھی تعلیم کے لئے بندوبست کرے صحت کی تمام تر سہولیات میسر کرے پاکستان میں بسنے والا غیر مسلم بھی ہے اسکی بھی تمام سہولیات کو مہیا کرنا صاحب اقتدار کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔ چند مافیا کے دولت مند ہونے کا نام پاکستان نہیں ہے ۔

پاکستان یعنی ہم سے بعد میں آزاد ہونے والی ریاستیں کی ترقی کا راز یہی ہے اس لئے وہاں ہر شہری خوشحال ہے ہم انکی مزدوری کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ اب اللہ اللہ کرکے لاکھوں کوششوں کے بعد پی ٹی آئی کے ہاتھ اقتدار آہی گیا۔۔۔۔ موجودہ صاحب اقتدار نے حلف لیتے ہی پاکستانی عوام سے ٹیکس وصول کرنے کی بجائے غریب پاکستان کے خون سے پاکستان کے نظام کو چلانے کے درپے ہے۔ ابھی چند روز ہی ہوئے ہیں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء آسمانوں پر پہنچ چکی ہیں ۔ بچوں کو غریب کھانا تعلیم دلائے ۔ بیمار ہونے پر دوائی لے ۔ گھر کا کرایہ دے بجلی کا بل دے سوئی گیس کا بل دے ۔ گھر میں مہمان آجائے گھر کا سامان بھیچ کر مہمان نوازی کرے ۔۔۔۔

پی ٹی آئی یعنی عمران خان کا نیا پاکستان پچھلے 71 سال والے پاکستان کی طرف لے جا رہا ہے ۔۔۔۔ خان صاحب کو اپنے وزیر مشیروں کو بدلنا پڑے گا وہ اندر کے ہوں یا باہر کے ۔۔۔۔پنجاب میں پہلے چوری چھپے رشوت خوری ہوتی رہی ہے اب سرعام رشوت خوری جارہی ہے۔۔۔۔ سکولوں میں جائیں جنہوں نے ادب و آداب سکھانے ہیں وہ بد اخلاق ہو چکا ہے ۔ ہسپتال میں ڈاکٹر مریض کو حوصلہ دیتا ہے شفا کے لئے دعا کرتا ہے وہ مریض کو دور سے دیکھ کر کہہ دیتا ہے ہو ہو ہو اب آئے ہو جب مرض بڑھ گیا پیچھے کھڑے رہو۔ عام آدمی پولیس اسٹیشن کے قریب سے ڈرتا گزرتا ہے ۔ انتظامیہ سے کام پڑ جائے سارا دن انتظار میں کھڑے رہتے ہیں کب آفسر آئیں اور میرا کام ہو سکے۔۔۔۔۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں