notice to opposition in parliament 404

سرکاری و غیر سرکاری ادارے نوٹ فرما لیں !

الیکشن 2013 کی کیمپین زور و شور سے چل رہی تھی ، ہر پارٹی اپنے اپنے منشور کے ساتھ عوامی جلسوں سے ماحول گرما رہی تھی ، سیاسی جماعتوں کے لیڈرز عوام کو سنہرے خواب دکھا رہے تھے ، ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ ، امن و امان کی ابتر صورتحال ، معیشت کا بیڑا غرق اور مہنگائی کا طوفان تھا ، غریب مر رہا تھا اور بچے کچھے 20 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے سسک رہے تھے
تحریک انصاف کا دوسرا جنم ہو چکا تھا ، اکتوبر 2011 کے تاریخی جلسے کے بعد تحریک انصاف میں بڑے سیاسی لیڈرز کی شمولیت دھڑادھڑ ہو رہی تھی اور سوشل میڈیا پر تبدیلی کا طوفان برپا تھا ، 11 مئی 2013 کو عام انتخابات ہونے تھے لیکن اس سے قبل 7 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں عوامی جلسے کے دوران اسٹیج سے گر گئے ، ان کی گردن میں شدید چوٹ آئی ۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے الیکشن سے قبل ویڈیو بیان جاری کیا اور تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی آخری اپیل کی
انتخابات مکمل ہوئے اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق تحریک انصاف 26 نشتوں پر براہ راست کامیاب ہوئی ، مخصوص نشتوں پر 7 ممبران اسمبلی پہنچے اور 33 ممبران پر مشتمل جماعت اپوزیشن بنچز کا حصہ بنی ، واضح رہے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات میں تحریک انصاف کے کل ممبران کی تعداد ان کے خود دیے گئے نمبرز کے خلاف ہے
اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف الیکشن کے نتائج آنے کے بعد عمران خان کی عیادت کرنے شوکت خانم اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے عمران خان کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا ، مختصر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کیلئے غصہ ختم ہو گیا ہے ، الیکشن فرینڈلی میچ کی طرح ہونا چاہیئے لیکن دوسری جانب عمران خان نے صحت یاب ہوتے ہی حکومت کے خلاف بیان بازی شروع کر دی الیکشن کو آر اوز کا الیکشن قرار دیا ، انتخابات میں دھاندلی کا الزام براہ راست اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری پر لگایا اور حکومت سمیت تمام مقتدر اداروں کو مطلوبہ حلقے کھول کر دوبارہ جانچ کرنے کا مطالبہ کر دیا
عمران خان کا بیانیہ اپنی جگہ قائم رہا اور مزید تشریح کے مطابق انتخابات میں 35 پنکچر لگانے کا الزام نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی پر لگایا گیا ، انتخابات کے ایک سال کے بعد 24 جون 2014 کو عمران خان نے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسلام آباد کی جانب سونامی ملین مارچ کیا جائے گا جس میں 10 لاکھ لوگ شہر اقتدار آ کر دھرنا دیں گے ، مطالبات منظور نہ ہوئے اور چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے یوم آزادی یعنی 14 اگست 2014 کو سونامی لانگ مارچ کا آغاز ہوا جو 126 دن تک دھرنے کی صورت میں جاری رہا
اس دوران منتخب حکومت کو چوروں کی حکومت ، پارلیمنٹ پر لعنت ، سول نافرمانی تحریک ، وزیر اعظم ہاوس کی جانب مارچ کر کے منتخب وزیر اعظم کو گردن سے پکڑ کر باہر گھسیٹنے کے نعرے ، سپریم کورٹ کی دیواروں پر لٹکتی شلواریں ، وزیر اعظم ہاوس کا گھیراو ، اوئے نواز شریف ، جعلی حکومت اور ہر طرح کی زبان استعمال ہوئی ۔ سی پیک شروع کرنے کیلئے چین کے صدر کا دورہ پاکستان دھرنے کی وجہ سے ملتوی ہوا اور وقتی طور پر حالات قابو سے باہر ہوتے محسوس ہونے لگے
دوسری جانب حکومت وقت نے اپنا کام جاری رکھا ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پارلیمنٹ کا اجلاس بلاتے ، منتخب نمائندے اجلاس میں شرکت کرتے اور پارلیمان کا نظام مفلوج کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود چلتا رہا ، اسپیکر قومی اسمبلی پر دھاندلی سے جیت کر منتخب ہونے کا الزام لگا ، ایاز صادق واپس عوام کی عدالت میں گئے اور ضمنی انتخاب میں دوبارہ جیت کر واپس اپنی سیٹ پر بحال ہو گئے ، اسمبلی نے اپنی 5 سال کی مدت پوری کی اور اس تمام عرصہ میں منتخب حکومت کو تحریک انصاف کی جانب سے گالم گلوچ ، الزامات اور سخت جملوں کا سامنا رہا ، عمران خان جس پارلیمنٹ پر لعنت اور منتخب نمائندوں کو اپنے تند و تیز جملوں کا نشانہ بناتے رہے اسی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بمشکل نظر آئے لیکن 5 سال بطور پالیمنٹیرین نہ صرف اپنی تنخواہ باقاعدگی سے وصول کی بلکہ تمام مراعات سے فائدہ بھی اسی جعلی پارلیمنٹ سے اٹھایا جس کا لیڈر آف دی ہاوس چور ، اسپیکر جعلی ، عوام کے ووٹوں سے آنے والا ہر شخص دھاندلی کر کے آنے والا تھا
اسمبلی کے آخری اجلاس میں تحریک انصاف کے رہنما شہریار خان آفریدی نے فلور پر کھڑے ہو کر تقریر کی جس میں انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو سلام پیش کیا اور کہا کہ ہم نے آپ کے خلاف الیکشن لڑا اور ضمنی انتخاب میں آپ کے حلقے میں آپ کے خلاف تقاریر کیں ۔ لیکن سلام ہے آپ کی برداشت کو جو آپ نے اپنے فرائض میں نہ تو کوئی کوتاہی برتی اور نہ ہماری کسی بات کا برا مانا بلکہ آپ اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیا
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اتنی لمبی تمہید کا کیا مقصد ، اور پارلیمانی تاریخ کے ان پانچ سالوں کا خلاصہ بیان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ تو جناب سال 2018 کو تبدیلی کا سال قرار دیا گیا اور پاکستان تحریک انصاف بڑی قوت بن کر سامنے آئی ، عمران خان کی 22 سال کی جدوجہد رنگ لائی اور وہ وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے ، قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کی اور آخر میں بولا کہ میں “سلیکٹڈ” وزیر اعظم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جس پر خود عمران خان سمیت ان کی پوری ٹیم نے نہ صرف ڈیسک بجائے بلکہ تالیوں کی گونج میں بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا
حکومت کو اقتدار میں آئے تقریباً 10 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب آنے والے مالی سال کا بجٹ منظور کرنے میں اپوزیشن کی جانب سے وہی حربے اختیار کیے جا رہے ہیں جو عمران خان پچھلے دور میں روزانہ کی بنیاد پر اختیار کرتے تھے ۔ حکومتی بنچز میں شدید غصے کی لہر ہے ۔ کبھی دھمکی ، کبھی تنخواہوں کی بندش اور کبھی پیار سے اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سیاسی حوالے سے ملک بحران کی کیفیت میں ہے اور دوسری جانب قومی اسمبلی میں غیر جانبدار ہو کر اسمبلی کی کارروائی چلانے کا فرض نبھانے والے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے “سلیکٹڈ” کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ۔ اسمبلی کارروائی کی فوٹیج دیکھیں تو واضح طور پر ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے استعمال ہونے والے الفاظ میں “آرام سے بیٹھو” اور شدید غصے میں معزز اراکین کو جھاڑ پلانے کے الفاظ نہ صرف پوری قوم سن چکی ہے بلکہ ان کی غیرجانبداری پر بھی سوالیہ نشان اٹھا رہی ہے
ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی جانے والی رولنگ جب اخباروں کی سرخیوں میں آئی تو یوں لگا جیسے اخبار میں اشتہار دیا جا رہا ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری ادارے نوٹ فرما لیں کہ پارلیمنٹ میں سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے
لیکن حضور اعلیٰ جان کی امان پاوں تو عرض کروں ! یہ کیا ؟؟ آپ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے تھے وہ آپ کی پارٹی جیتنے کے بعد اتنی مقتدر کیسے ہو گئی ، جو روایات آپ نے پچھلے پانچ سالوں میں پروان چڑھائیں وہ موجودہ اپوزیشن لیے غیر مناسب کیسے ہو گئیں ، چوروں کی پارلیمنٹ ، جعلی اراکین اور دیے گئے تمام فتوے برداشت کرکے ملک کا نظام چلانے کیلئے پارلیمنٹ کو چلانے والوں کو آپ کے رکن نے خود سلامی دی ، لیکن اب جانبدار ہو کر اسمبلی میں رولنگ دینا ، معزز اراکین کو جھاڑ پلانا ، صرف اپوزیشن اراکین کے الفاظ کو حذف کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟
جناب عالی ! پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کام حکومت پر تعمیری تنقید کرنا اور غلط فیصلوں کو رد کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے ، پاکستان میں پارلیمانی سیاست گرچہ مختلف ہے لیکن اب خان صاحب کے ساتھ شاید وہی کچھ ہو رہا ہے جو وہ پچھلے پانچ سال کرتے رہے ، اور وہ اپنا بویا کاٹ رہے ہیں
لیکن ہاں پارلیمان کو کیسے چلانا ہے اس کا سبق ایاز صادق کے کردار سے ضرور سیکھنا پڑے گا

تحریر:اعیان سدھو

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں