Murder case registered against six people 52

گزشتہ روز قتل ہونے والے سینئیر صحافی علی شیر راجپر کے قتل کا مقدمہ چھ افراد کے خلاف درج

نوشہرو فیروز(محمّد عمران ) انقلاب نیوز

ملزمان کی عدم گرفتاری پر ورثہ اور یونین آف جرنلسٹ کا احتجاجی مظاہرہ،لاش روڈ پر رکھا کر مہران ہائی وے بلاک ،ایک ملزم گرفتار،پولیس

تفصیلات کے مطابق پڈعیدن میں سٹی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری علی شیر راجپر کے قتل کا مقدمہ پڈعیدن تھانہ پر چھ ملزمان شکیل راچپر،احمد راچپر،حبیب راجپر،غلام علی راچپر،اور ظفر راچپر کے خلاف مقتول کے بھائی دئود راچپر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے مقتول کے ورثاء اور یونین آف جرنلسٹ ضلع نوشہرو فیروز کے صحافیوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ کے بعد لاش مہران ہائی جلالجی روڈ پر رکھا کر دھرنا دیا اور روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا اور سخت نعرے بازی کی اور صحافی علی شیر راجپر کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے رہیے بعد ازاں پولیس کی یقین دھانی کے بعد دھرنا ختم کیا گیا مقتول صحافی علی شیر راچپر کے والد محمد اقبال اور بھائی دائود راچپر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ساتھ ظالم ہوا ہے ہمیں انصاف دیلایا جائے اور ملزمان کو فی الفور گرفتار کرکے سخت سزادی جائے رابط کر نے پر ایس ایچ او رانا جمشید راجپوت نے بتایا کہ ایک نام زد ملزم حبیب راجپر کو گرفتا کر لیا گیا ہے دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر لیں گے ملزمان کی گرفتاری کے لئے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ صحافی علی شیر راچپر کے قتل کے خلاف پڈعیدن سمیت اندرون سندھ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں