mangoes production in danger 72

نوشہروفیروز: آموں کی پیداوار کے لیے مشہورعلاقہ ، وائرس کی زد میں

محمد عمران نمائندہ انقلاب نیوز نوشہروفیروز

ضلع نوشہروفیروز کی 70فیصد سے زیادہ آبادی زراعت پیشہ سے وابستہ ہے۔ ضلع بھر کی سرسبز زمین پر مختلف سیزنلی فصلوں کے ساتھ بہزاروں ایکڑ رقبے پر آموں کے باغات بھی صدیوں سے قائم ہیں۔
جن میں آموں کی تمام اقسام کے ساتھ دنیا بھر میں مشھور سندھڑی آم کی پئداوار بھی بڑی تعداد میں حاصل کی جاتی ہے۔
آموں کے ان باغات کو گذرشتہ سال سے شدید نقصان دینے والا وائرس لگا ہواہے جس سے آموں کے آبادگار پریشان حال دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وائرس کو مقامی زبان میں مُٹِ کی بیماری کا نام دیاجارہاہے۔ اس وائرس سے آم کا پھل دانے کی شکل اختیار کرتے ہی درختوں سے جھڑ کر گر جاتاہے۔ اس وائرس کے خاتمے کے لئے مختلف پرائیویٹ کمپنیوں کی جانب سے تجویز کردہ ادویات اور مشورے بھی بے اثرثابت ہوچکی ہیں۔
ایک طرف وائرس اور دوسری جانب لگنے والی طوفانی ہواؤں نے دانے کی شکل اختیار کرنے والے آموں کو ڈالیوں سمیت درختوں سے جدا کردیاہے۔ ایسی حالات میں اس سال بھی کاشتکاروں کو آموں کی پئداوار انتہائی کم حاصل ہورہی ہے۔ اور محکمہ زراعت بھی آرام کی نیند سے ابھی تک نہیں جاگا۔
کاشتکاروں کا یہ بھی شکوہ ہے کہ صدیوں سے آموں کی پئداوار کا اعزاز رکھنے والے ضلع نوشہروفیروز میں آج تک کوئی ایک بھی مینگو فیستوئل منعقد نہیں کیاگیا جس سے آموں کی انٹرنیشنل ایکسپورٹ کے ساتھ تحقیقی آگاہی کا شعور بھی اجاگر ہوسکے۔
مقامی آبادگاروں کی محنت کا پھل میٹھا بنانے کے لئے اعلیٰ حکا م کی توجہ سے محکمہ زراعت کو فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے سالوں میں کاشتکاروں کی محنت رائیگان ہونے سے بچ سکے.

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں