kalabagh dam and its construction 175

کالا باغ ڈیم اور اس کی تعمیر

کالا باغ ڈیم اور اس کی تعمیر

انقلاب نیوز

آج کل ہم تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہے ہیں ۔ الیکشن 2018 کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ ایسے حالات میں ملک کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ مگر ہم سیاسی ، مذہبی ، علاقائی اور گروہی تقسیم کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ۔ نظام کی کوئی واضح شکل اور خد و خال نظر نہیں آ رہے ۔ سوشل میڈیا جو قومی دانش کا عکاس ہونا چاہیئے غداری اور کفر کے فتوے جاری کر رہا ہے ۔ تقسیم اور تعصب بڑھتا جا رہا ہے ۔ سیاست نظریاتی اختلافات سے نکل کر ذاتی عناد میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ غلط اور صحیح کو سمجھنے کی بجائے ہر شخص اپنے کتے کو ٹومی قرار دے رہا ہے ۔قومی ایشوز کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کی روش میں ملکی مفاد پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔

الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق نے سیاسی جماعتوں کو کارکردگی کی بجائے الزام تراشیوں کی طرف دھکیل کر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے اٹھا کر سوشل میڈیا پر پھینک دیا ہے ۔ اسی دوران صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران آنے والے دنوں میں پانی کی قلت کے خوف کی بنا پر چیف جسٹس صاحب کی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی ضرورت پر ابزرویشن نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے ۔

میرے خیال میں سوشل میڈیااستعمال کرنے والوں میں ٹیکنیکل رائے دینے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اسی لیے جذباتی نوجوانوں نے یہ سوچے بغیر کہ ڈیم بنانے کی مشینری اور تیکنیکی مہارت پر پاکستانی روپے سے زیادہ ڈالر خرچ ہوتے ہیں ، چیف جسٹس صاحب کو تعمیر کیلئے دو ہزار فی کس چندہ دینے کی پیشکش بھی کر دی ۔ اب کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی بنیاد سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والے ایک دوسرے کی حب الوطنی پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں ۔

اس حوالے سے قوم کو تفریق اور تقسیم سے بچانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری جناب چیف جسٹس پر عائد ہوتی ہے ۔ اس کے لیے انہیں چاہیئے کہ کچھ ایسے اقدامات کریں جس سے سیاسی تقسیم علاقائی اور لسانی تقسیم میں تبدیل نہ ہونے پائے ۔

میرے خیال میں چیف جسٹس صاحب اس وقت واحد غیر متنازعہ شخصیت ہیں اور عدلیہ واحد ادارہ جس پر پوری قوم کو اعتماد ہے ۔ لہذا انہیں چاہیئے کہ وہ پانی کی کمی کے مسئلہ پر ایک فل کورٹ اجلاس طلب فرمائیں ۔ چونکہ سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کی نمائندگی بھی موجود ہے اور معزز جج صاحبان غیر سیاسی اور غیر جانبدار بھی ہیں ۔ ان کی آرااور مشاورت سے ایک ایسا بنچ تشکیل دیا جائے جس میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے جج صاحبان موجود ہوں اور یہ بنچ چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے تکنیکی ماہرین کو سنے اور اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر ممکن ہو تو اپنے فیصلے میں حکومت وقت کو ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم جاری کرے ۔
اگر بروقت یہ اقدام نہ کیے گئے تو ہو سکتا ہے کہ یہ مسئلہ صوبائی اور لسانی اختلافات میں شدت کا باعث بنے ۔ جس کا ہمارا پیارا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اب چیف جسٹس صاحب کی یہ ذمہ داری ہے کہ جس مسئلہ کو جذباتی انداز میں اٹھا کر انہوں نے سوشل میڈیا کے حوالے کر دیا ، اس کا حل بھی نکالیں

تحریر : ذوالفقارعلی

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں