journalist murderer not arrested 59

صحافی ذیشان اشرف بٹ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکام بالا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

صحافی ذیشان اشرف بٹ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکام بالا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

خانزادہ تقی خان نمائندہ انقلاب نیوز سیالکوٹ

11 روز گزر جانے کے باوجود بھی پولیس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی جو کہ متعلقہ اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
حکام بالا سن لیں کہ یہ احتجاج قاتلوں کی گرفتاری تک جاری رہے گا اور اگر ملزمان کی گرفتاری کو جلد یقینی نہ بنایا گیا تو انشااللہ احتجاج کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا اور ذیشان اشرف بٹ شھید کے قاتلوں کی گرفتاری تک ملک گیر احتجاجی مظاہرے کئیے جائیں گےاگر سیاسی و دیگر پارٹیاں اپنے حق کیلئیے لانگ مارچ پہیہ جام ہڑتال کر سکتی ہیں تو پھر صحافی بھی اپنے شھید بھائی کو انصاف دلوانے کیلئیے ہر حد تک جائیں گےاقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر مزے لوٹنے والے سن لیں کہ ہم اپنے صحافی بھائ کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے انصاف کے حصول کیلئے ہر فورم پر جنگ لڑیں گے اور بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرانے سے گریز نہیں کریں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ صحافی ذیشان اشرف بٹ شھید کے قاتل عمران المعروف مانی چیمہ کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ پھر کوئی صحافی ایسی دہشت گردی کا نشانہ نہ بنے ۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں