69

عمران خان وزیراعظم منتخب اور اپنے عہدے کا حلف بھی لے لیا ۔ عمران خان نئے پاکستان کی طرف گامزن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انقلاب نیوز

رنا عاشق علی ڈسکہ

عمران خان صاحب کے بطور وزیر اعظم بننے پر بہت سی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔۔۔۔پاکستان کو مدینہ طرز زندگی کی ریاست ۔۔۔۔۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پیروی اب عمران خان اور پاکستان کی عوام کیا اس عمل پر پورا اترتے ہیں۔۔۔۔۔ جانور کے بچے کا جواب دے ہونا پڑے گا۔۔۔۔ عمران خان نے اپنے تمام وعدے کو عملی جامہ نہ پہنچایا ان کے لئے حکومت کرنا صاحب اقتدار کی صف سے باہر جانا پڑ جائے گا ۔ عمران خان کو الیکشن کے بعد میسیج کیا ابھی تک اسکا جواب نہ تو خود اور نہ کسی اپنے نمائیندے کے ذریعے جواب موصول نہیں ہوا ۔۔۔

بس ہم دعا کرسکتے ہیں پاکستان کی ریاست ‘مدینہ کی ریاست کی مثال پیش کرے۔۔۔۔۔ حلف برداری تقریب میں پاکستان کے سیاسی رہنما بیرون ملکی مہمان افراد اور عسکری قیادت نے شمولیت اختیار کی ۔ منتخب وزیراعظم نے مخوص صحافی حضرات کو دعوت نامے جاری کئے جن میں القوامی صحافت سے وابسطہ افراد بھی تھے جنہوں نے حلف برداری پروگرام بہت سارے سنئیر صحافی حضرات کو نظر انداز کیا جو ایک غیر مناسب رویہ تھا۔

اللہ کے فضل سے عمران خان جنہوں نے 71 سال بعد ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لاکھوں وعدے کئے ۔ عمران خان نے 22سالہ سیاست کی جدوجہد کے بعد اپنے 3/2 تہائی حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو چکے۔ عمران خان نے غریب پسی عوام جس کی دولت کے وہ حقدار تھے ان پر 71 سال سے استعمال نہیں ہوئی شاید پاکستان یو آئی ای جیسے ریاستوں سے آگے نکل چکے ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے نئے حکمرانوں کو بہت سارے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا خدا کرے پی ٹی آئی اس میں کامیاب ہو جائیں۔ سب سے بڑا مسئلہ جنوبی پنجاب ہے جس کا وعدہ ایک علحیدہ صوبہ بنانے کا ہے۔

مگرعمران خان نے سب سے پہلی غلطی وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد کی نہ اپنا پیغام عوام تک پہنچا سکے اور نہ اپوزیشن کے لوگ دونوں کی تقریری ایسی تھیں جسی اطراف سے گول گپے اور چاٹ فروخت کرنے کی صدائیں آرہی ہیں ۔ قریشی صاحب کو سپیکر سے وقت لیکر کچھ اپنی اور وزیراعظم کے سوچ کی باتیں بتائیں جس پر خورشید شاہ نالاں ہوئے ۔ بعد میں بلاول بھٹو جو انگریز ماحول میں اپنی تربیت حاصل کئے ہوئے ہیں سب نے کہا بڑے سلیقے اور سنجیدگی کی گفتگو کی اور پارلیمنٹ میں جیسے بولے اسکی تعریف نہیں ٹھیک ہے اسکی گفتگو کرتے ہوئے کسی نے ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی ۔ میں اس انکی گفتگو پر مکمل تحفظات اور اعترضات ہیں وہ برطانیہ امریکی یا دیگر غیر مسلم اسمبلی میں نہیں کی بلکہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں گفتگو کی جنہیں اردو اور آسان الفاظ میں بات کرنی چاہئے تھے تاکہ میرے جیسے جو انگلش نہیں سمجھ پاتے انکی بھی علم ہوتا کیا فرما رہے ہیں۔

یہ سب ذمے داری سپیکر کی تھی جنہوں نے پہلے دن ہی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ امید ہے پاکستان میں تبدیلی آئے تاکہ عمران خان پر لگے تمام الزمات کہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں وزیراعظم بنانے میں ایم کردار ادا کیا جھوٹ ثابت ہو۔ میں آغاز میں بات شروع کی تھی کہ نیا پاکستان بقول پی ٹی آئی بن گیا بے شکے مزدور اور مستری پرانے ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس ارادہ مسمم ہونا چاہئے۔ عران خان جو دوسری غلطی کی عثمان بردار کی جو کئی سالوں سے ایم پی اے کی سیٹ پر کامیاب ہوتے رہے دیکھنا یہ تھا کہ کیا اس عرصہ میں اس نے اپنے علاقے کی عوام کے لئے کیا کیا جبکہ وہ سابقہ تین دفعہ حکومت بنانے والوں میں شامل رہے ہیں اور ایک جاگیر دارانہ سوچ رکھتے ہیں دوسری طرف سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ موصوف کے والد کے خلاف مقدمات بھی چل رہے ہیں ۔۔۔

اور بیٹے باپ کے مقدمے کی پیروی نہ کرتا ہو یہ ممکن ہی نہیں۔عمران خان صاحب وزیراعظم پاکستان کو پنجاب کے وزیر اعلی کے حوالے پر اپنی بات نظرثانی کرنی کرنا ہوگی ۔ جنوبی پنجاب سے جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کی ضرورت ہے لوگ ان ظالموں سے آزاد ہوں گے تبدیلی خود بخود آجائی گی اور یہی حال بلاول کو کوئی پیغام پہنچائیں جس کا وہ خود اور والد سندھ بھی اس میں ضد میں آتے ہیں۔ پیسے باہر سے وزیراعظم منگوا سکتے ہیں یا نہیں جو پاکستان کی عوام کا آئیند پیسا ٹیکس کا اپنی عوام کے لئے استعمال کریں کافی ہے باقی سابقہ آپکی بیوی نے پاکستان کا قرضہ اتارنے کی آفر کی ہے یہ خیر سگالی کا عمل ہے آپکو اور پاکستان کی عوام اس بات پر غور کرنا وہ کوئی پاکستان پر نہ تو قابض یا کوئی فائدہ حاصل کرنے کی کوئی خواہش مند ہے۔ اب پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران کوئی شور شرابہ کرنے کی کوشش کرے اسپیکر کو یہ اختیار حاصل ہے وہ اس شخص کو پارلیمٹ سے باہر نکال سکتے ہیں احتجاج اس طرح مہذب معاشرے میں نہیں ہوتے جو ہمارے ہاں روایت چل پڑی ہے ۔

عمران خان کو سب سے پہلا کام کرنا ہے بجلی کو مکمل اور سستی کرنی ہے۔ پٹرول اصل قیمت پر فروخت کرنا ہے۔ بےروزگار کو روزگار دینا ہے ۔ سوئی گیس گھر پہنچانی ہے۔ بجلی جس میں ہزاروں لوٹنے کے ذریعے لگائے گئے ہیں اس کو ختم کرکے بجلی سستی کرنی ہے تاکہ ایک عام آدمی بآسانی اسکی قیمت ادا کرسکے۔ ایک غریب کو ہسپتالوں میں وہ تمام سہولیات دینی ہے جو ایک ریاست کی ذمہ داری کئی برسوں سے غربت کی وجہ زندگی کی بازی ہار جکے ہیں ہر گاوں میں ررول ہیلتھ کئیر کے تحت ڈسپنسریاں ہونی چاہئیں۔

تاکہ اسے میلوں سفر کرکے بنیادی مراکز صحت یا تحصیل ہیڈکوارٹر کے لئے لمبا سفر نہ کرنا پڑے جو نظام پہلے ہے اس میں بہتری لائی جائے ۔ پاکستان میں تعلیم کا بہت بڑا مسئلہ ہے غریب کے بچے کا نصاب اور مہنگے ترین سکولوں کا نصاب اور غریب کے بجے کے لئے تعلیم بالکل فری ہو۔ عدالتوں کا نظام درست ہو تاکہ ایک غریب شخص کے لئے سستا اور فوری انصاف لینے کامیاب ہو۔ محکمہ مال کے نظام کو درست ہونا چاہئے جو کرپشن کا بادشاہ ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں عمریں بیت جاتی ہیں تقسیم ۔ نشاندہی اور قبضہ لینا حق دار کو بہت سی مشکلات ہیں فوری انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔

جائیداد کی منتقلی کے ڈار صاحب نے اپنی جیب بھرنے کے لئے بے معانی ٹیکسز لگائے ہوئے تھے اسکا خاتمہ ہو۔ پولیس کا نظام بہت مانی رکھتا ہے اسکی تبدیلی جلد جلد بہت ضروری ہے جو ملزوم کو مجرم اور ظالم کو بے قصور ثابت کردیا جاتا ہے کوئی بچارہ غریب چوری یا مارپیٹ کھا کر پولیس کے خوف سے تھانے میں کتراتا ہے زیادہ تر تھانوں میں ایس ایچ او اور ڈی پی او سیاستدان اپنی مرضی سے تعینات کرتے ہیں تاکہ اپنی من مرضی کے مطابق تھانوں میں تعینات افیسرز سے کام لیتے ہیں پاکستان میں پولیس کا کلچر تبدیل ہونے سے ایک عام آدمی کے دل سے خوف پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح محمکمہ جنگلات واپڈا ٹیلی کمیونیشن سب کے سب اداروں میں کرپشن جھلکتی ہے۔ اسکے علاوہ نادرہ اور پاسپورٹ آفس میں تو کرپشن کی انتہا بنی ہوئی اس محکمے کے لوگوں نے ایجنٹ بنائے ہوئے ہیں جو پاسپورٹ کی سرکاری فیس کے برابر روپے لیکر عمل کرواتی ہے۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں مہنگائی اتنی بڑ چکی ہے مزدور ایک دن کی دیہاڑی نہ لگائے تو اس فیملی کو ایک دن کے لئے بھوکا رہنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑا کام مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے ۔۔۔۔۔ پاکستان میں 90 فیصد لوگ ایسے ہیں جو انتہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر وزیراعظم اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں سب سے پہلے پنجاب کے بارے سنجیدگی سے سوچیں۔ مہنگائی کا خاتمہ کریں باقی پانچ سال پڑے ہیں بلڈوزر چلانے کے۔ اس وقت عوام کو روٹی کپڑا مکان اور ضروریات زندگی کی اشیاء سستے داموں ملنے کی ضرورت ہے اور نئے پاکستان کی ابتدا عوام کی خوشحالی میں چھپی ہے۔ جاری ہے

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں