90

انسانی فطرت

(میری بات )

ہر انسان کی کے دل ودماغ یہ حسرت موجود ہوتی ہے میں ایسی ریاست کا مقیم ہوں جہاں اسکی مال و جان کی حفاظت ہو ۔ وہ ایک بہترین زندگی یعنی خوشحالی زندگی بسر کرے اگر تو وہ وقت اقتدار کی تسبی میں پرویا جاچکا ہے پھر تو تمام ضروریات زندگی اس کے پیچھے بھاگتی پھرے گی اگر رعایا ہے تو اس کی زندگی رعایا سے ہزار گنا کم تر ہوگی۔

میں پجھلے مضمون میں عرض کرچکا ہوں ایک صاحب اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کے تمام تر حقوق جو آپ کے ادا کرنے میں فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ پچھلی اسلامی ریاستوں کی مثالیں دینا فضول ہوگا کیونکہ وہ کسی کے دل میں نہیں اترے گی کیونکہ ہماری ریاسات سے اسلامی ریاست کاقصد اسلام آباد سمجھا جاتا ہے ۔ آپ حکمرانی حاصل کرنے کے لئے دوران الیکشن اپنی ہونے والی رعایا سے بہت ساری اسلامی ریاستوں اور ان کے صاحب اقتدار کی مثالیں دے دیکر جذباتی کرتا ہے کوئی اسلام قانون نافذ کا جھانسا دیتا ہے کوئی خود مختار اور کچھ لوگ جمہوریت کا راگ لگا کر آوازیں دینا شروع کرتے ہیں ۔

کوئی آقاء دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم کی بات کرتا ہے تو کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عدل کی مثالیں دیتا ہے تو اولیاکرام کی بات کرتا ہے یہ چند مافیا جو امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں مذکورہ بالا الفاظ دہرا کر معصوم عوام کے جذبات ابھارتا نظر آتا ہے ۔ جب الیکشن گزرگئے نہ تو ان کے دل میں اسلامی ریاست کا نقشہ رہا اور نہ ہی اعلی ہستیاں کی کوئی بات پر قائم رہتا ہے ۔بات ہورہی تھی انسان کی فطرت تو یہ تمام اوصاف اس میں موجود ہوتا ہے مگر وہ اس اہل نہیں ہوتا وہ ان جندکرپٹ مافیا سے امید لگائے رہتا ہے ۔ جن کا پیٹ اپنا نہ بھرتاہو وہ کسی کے پیٹ کے لئے کیا گریگا گا ۔

میرا کسی کوئی ذاتی اختلاف نہیں اختلاف ہے تو اسکے جھوٹ فریب اور معصوم لوگوں کو دھوکا دینا۔ کہتے ہیں پکی دیگ کے ذائقے کو چکھنے کے لئے پوری دیگ کھا کر نہیں ایک دو دانے سے معلوم پڑجاتا ہے ۔ میں اپنے دل کی بات بتاووں اگر ہمارے سیکیورٹی ادارے افواج پاکستان پاکستان کی حفاظت پر معمور نہ ہوتے یہ سیستدان شاید ہمیں بھی بیچ دیتے ۔ عمران خان صاحب کو میں ذاتی طور پر پسند کرتا ہوں مگر اس نے آتے ہی وہ کام کردکھایا جو پچھلی حکومتوں تھیں انہوں نے صبر واستقلال کا راستہ اپنایا تاکہ عوام کی دولت کو آہستہ آہستہ لوٹتے ہیں مجھے یہ بھی یقین ہے عمران خان کا یہ ذہن نہیں ۔

مگر اس نے چند دنوں میں عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ ہم 71 کیا 100 سال بھی ہماری حالت ہوگی خدا کی قسم جب ہم رورل ایریا یا کسی شہر کے گردونواح میں جاتے ہیں تو ہیں دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ یہ تھی نئے پاکستان کی ابتدا ۔۔۔۔ پاکستان تا قیامت رہیگا اس میں معرض وجود آنے میں بہت نیک اور پارسا لوگوں کا خون شامل ہے ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی بنے گا مگر وہ اب وقت دور نہیں نہ جانے کب انقلاب بھرپا ہو جائے اور یہ موجودہ سابقہ حکمرانوں کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا ۔

سرور کونین کا نام لیکر صحابہ اور اہلبیت کے نام پر ووٹ لینے والو یہ تمہاری مکاری تھی تم کیا جانوں عمر بن خطاب کون تھے جسے شیطان بھی دیکھ کر کوسوں دور بھاگ جاتا تھا۔ ایک عام شہری جو اسکی فطرت میں شامل ہے اور وہ حق پر ہے کہ اس کے حقوق ادا کیئے جائیں۔۔۔۔۔ یہ ایک الیکٹڈ ہے یا سلیکٹڈ یہ آخری موقع ہے ہم نے جو سروے کیا ہے عوام کا رد عمل دیکھا ہے انہوں کا کہنا تھا عمران خان کی حکومت کے دوسال دیکھیں گے کہ وہ ایک عام غریب کا درد دل اور خدمت مخلوق خدا رکھتا ہے پتا چل جائے گا ۔۔۔۔ وگرنہ آئیندہ الیکشن ایسے نہیں ہوں گے انقلابی الیکشن ہوں گے

کالم نگار : رانا عاشق علی
نیوز ڈائریکٹر انقلاب نیوز سیالکوٹ
how will we change

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں