jhang 160

ہم جانگلی ہی سہی صاحب

تحریر : عمران خان

14دسمبرکو ایک قومی اخبار میں ملک کے معروف صحافی و کالم نگارسمجھنے جانے والے ایک پڑھے لکھے شخص نے کالم تحریر کیا جس میں موصوف نے ایک جانگلی کی فرضی کہانی جھنگ سے منسوب کرکے نہ جانے اہلیان جھنگ کوکیا ثابت کرنے کی کوشش کی کالم مکمل پڑھنے کے بعد جس قدر دکھ ہوا شاہد وہ بیان نہ کر سکوں اور یقیناًاتنا ہی دکھ جھنگ کے دیگر باسیوں کو بھی اس کالم پڑھنے کے بعد ہواہوگامگر نامور صحافی و کالم نگار شاہد نہ تو جھنگ کو جانتے ہونگے اور نہ ہی جھنگ والوں کو۔چلیں بڑا آدمی ہے چھوٹے شہر سے لاعلم بھی ہوگا ۔مگر میں انہیں جھنگ کے چند ایک جانگلیوں کے بارے آگاہ کرنا چاہوں گا حالانکہ چوہدری موصوف کی سواری جب جھنگ بسلسلہ ایک ایڈوٹائز کیلئے خطاب کے سلسلہ میں جب جلوہ افروز ہوئی تھی تو اس وقت بھی ان کے حضور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے اسی شہر کے چند ایک جانگلی صحافیوں نے بڑے اچھے انداز میں نا صرف جھنگ کا تعارف کرایاتھا اور موصوف کو جناح ہال سے متصل دفتر میں کپ آف ٹی پر بڑے بڑے جھنگ کے نامور جانگلیوں کا بھی حوالہ دے کر یہ بتایا تھا یہ سب جانگلی اس شہر کا سرمایہ اور فخر ہیں ، محترم کالم نگار صاحب جھنگ میں صوفی بزرگ اور پنجابی کے نامور شاعر سلطان العارفین حضرت سلطان باہو جن کے ہاتھ پر سینکڑوں غیر مسلم مشرف با اسلام ہوئے اور روحانی فیض حاصل کیا، ان کی لکھی سینکڑوں کتب جہنیں کڑوروں افرادنے پڑھااور دین و دنیا کی معلومات سے منور ہوئے۔ دنیا کے نوبل ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹرکھرانہ، کے علاوہ نامور شعرا میں رام ریاض ، شیر افضل جعفری ، مجید امجد، معین تابش ، کیپٹن جعفر طاہر،صاحبزادہ رفت سلطان جیسے ادیب شامل ہیں،عالمی شہرت یافتہ شیخ السلام پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری جیسا عظیم مبلغ اسلام ان جانگلیوں کا اعزاز ہے جہنوں نے قرآن کریم کا ترجمعہ اور تفسیر بڑے احسان الفاظ میں تحریر کرکے اہل ا سلام کیلئے ایک قیمتی اثاثہ عطیہ کرنے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کتب بھی ان کا ان جانگلیوں کے لیے ایک ورثہ ہے ، عالمی شہرت یافتہ نامور مذہبی شخصیت مولانا حق نواز جھنگوی ،، کا نام بھی یہاں کے جانگلیوں کیلئے قابل احترام ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ میڈیا کی شخصیات میں ملک کے بڑے کالم نگار جناب نذیر ناجی کے ساتھ ساتھ صفدر سلیم سیال،سمیع ابراہیم، رائے ریاض حسین ڈھڈی اورسینکڑوں اعلی عہدوں پر تعینات بیوروکریٹس کا تعلق بھی جھنگ کے جانگلیوں سے ہے۔جھنگ کے جانگلیوں میں سے تقریبا 200کے قریب ایسے جانگلی بھی ہیں جہنوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں ۔

صاحب !آپ کی اطلاع کے لیے عرض کرتا چلو کہ انہی جانگلیوں کے دیس کی سرحدیں شیخوپورہ تک جاتی تھی پھر ان جانگلیوں نے وطن عزیز کی ترقی کو ملوظ خاطر رکھتے ہوئے فراز دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع شیخوپورہ اور آج کا فیصل آباد’’ دان‘‘ کردیاتاکہ آپ ایسے دانشور مختلف ناموں سے حکومتی حمایت میں کالم نگاری کا طبلہ بجا کر روٹی روزی نہ صرف کما سکیں بلکہ پر تعیش زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنی مادہ پرستی کی آنا کو تسکین بہم پہنچاسکیں۔

ایک جانگلی کی طرف سے جنگل کا دفاع کرنے کی کوشش اگر محترم کالم نگار صاحب کو بری لگی ہو تو میں کیا کرسکتا ہوں ۔

انقلاب نیوز

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں