125

آج پاکستان کے زر خرید عوام کو چند کوڑیوں کی خاطر دھوکا دینے میں مصروف عمل ہیں

(میری بات ) حصہ دوم
آج پاکستان کے زر خرید عوام کو چند کوڑیوں کی خاطر دھوکا دینے میں مصروف عمل ہیں
دانشور ۔ادیب ۔ مصنف ۔ شاعر۔ تجزیہ کار۔ کالم نویس اور صحافی حضرات جان لیں پاکستان میں خوشحالی و ترقی کی راہیں مختلف حکومتوں سے نہیں آئے گی اور نہ کوئی مذہبی سیاسی سماجی رہنما اس کے قائل ہیں ۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں گھن لگ چکا ہے جو دن بدن پاکستان کی عوام کو مایوسی کی طرف لے جا رہا ہے ۔ لوگ بھوک پیاس کی وجہ سے خودکشیاں کررہے ہیں حتی کے جس کے لئے ہزاروں دعا ئیں خدا سے مانگ کر اولاد مانگتے ہیں غربت بے بسی لاچاری ضروریات زندگی سے محروم اپنے لخت جگروں کا ذبح کررہے ہیں۔۔۔۔۔ پاکستان چند خاندان تک محدود رہ چکا ہے جو اپنی دنیاوی زندگی کی آرائشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ غریب کی پہچان صرف شناختی کارڈ تک محدود رہ چکی ہے جسے چند نام نہاد سیاستدان اور انکی ہرزہ رسائی کرنے والے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی جنگ کوئی عوام کے لئے نہیں ہوتی صرف عوام کو چند ٹاوٹوں کے ذریعہ اکٹھا کرنا مقصود ہوتا ہے جو صرف اپنے مقاصد کے لئے معصوم عوام کو بےوقوف بنایا جاتا ہے یہ آپکی اور ہماری آنے والی نسل کا مستقبل ان مقاصد کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ فرعون نمرود شداد اور یزید جیسے لوگوں نے دنیاوی زندگی کو ترجیح دی اسی طرح اپنے اپنے انداز میں انسان کو اپنے تابع رکھا ۔۔۔۔ ہم دنیاوی لالچ حوس مال و دولت کا وسیع تر وسیع ہونا زندگی کی تمام آسائشوں آرائشوں کو اپنا مقدر بنائے بیٹھے ہیں اور انکی تائید کرنے والے مذکورہ بالا افراد ہیں جو صاحب اقتدار کی چاپلوسی میں اپنی آخروی زندگی کو تباہ کررہے ہیں
اللہ تعالی فرماتا ہے دنیاوی زندگی ایک دھوکا ہے ۔۔۔۔ جس کے بارے مذکورہ بالا الفاظ کی تائید ہے ۔ جس کا مطلب صاف ظاہر ہوتا ہے آپ نے جو بھی اعمال کرنے ہیں وہ سب آخروی زندگی میں کام آنے ہیں۔ دنیا میں اچھے اعمال کریں گے تو خسارے فریب دھوکے کی زندگی سے باہر نکل آئیں گے۔ 2018 کے الیکشن میں بہت سے تلخ تجربات دیکھنے کو ملے ۔ کوئی تعلق کی بنا پر اور کوئی تعلق سے تعلق کی بنا پر اور کچھ لوگ مفاد پرست جنہوں نے غریب عوام کا سودا کرکے غریب کو امیدوار کے ہاتھوں یچ ڈالا اور غریب اور بےبس لاچار کے علم میں بھی نہیں کہ میں فروخت ہوچکا ہوں ۔ مگر اس نے خلوص نیت سے اپنی نام نہاد جمہوری عمل کا حق ادا کیا ایک نہیں لاکھوں مثالیں موجود ہیں ۔ مگر ٹاوٹوں نے اپنا تعلق بھی نہیں دیکھا بلکہ امیدوار کے ساتھ دھوکا دھی اور فراڈ سے امیدوار سے لاکھوں روپے ہتھیا یاہڑپ کرگئے۔ الیکشن کا فائدہ کیا ہوا بنیاد ہی آپکی کچی ہو اور اس میں محل کھڑا کرنا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ امیدواران نے جتنے روپے الیکشن اور ٹکٹ لینے میں خرچ کئے یہی اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرتے تو صدقہ جاریہ اور آپ کو تا قیامت اجرو ثواب ملتا۔ اب میں سوال کرتا ہوں حکمرانوں سے کہ الیکشن کے دوران جو آپ نے رقم خرچ کی وہ اپنی رقم کا دگنا حاصل کرنے کے خواہش مند رہیں گے۔
عمران خان صاحب پانچ سال ن لیگ کی حکومت کو گرانے میں کوشاں رہے اگر یہی پانچ سال وہ عوام کے دکھ درد جانچنے کی کوشش کرتے ایک عام غربت کے مارے پاکستان کے مسائل کیا ہیں جاننے کی کوشش کرتے پاکستان کے چلانے والے اداروں کی طرف توجہ رکھتے ۔ ریونیو کو سمجھتے ۔ انتظامیہ کو سمجھتے ۔ واپڈا کو سمجھتے بجلی کو سمجھتے گیس کو سمجھتے نادرہ پاسپورٹ مکمہ جنگلات ۔ انکم ٹیکس ایف بی آر ۔ لوکل ٹیکس ۔پی آئی اے ۔ فوج ۔ عدلیہ پاکستان کی پولیس و دیگر سیکیورٹی ادارے بالخصوص بیوروکریسی کو سمجھتے اور ماہرین سے مشورے لیتے کہ ادارے کیسے چلتے ہیں ان میں کونسی خامیوں ہیں جنہیں دور کریں گے کہ ایک پاکستانی شہری کو اس کے مکمل حقوق مہیا کئے جاسکیں۔۔۔۔۔۔ جس سے وہ خوشحال زندگی گزاریں
میں ایک شخص کو جانتا ہوں ایک عام امیدوار جس نے بلاوجہ کروڑوں روپے خرچ کئے ۔۔۔۔ایک ووٹر اور سپورٹر جس نے مخلص ہو کر اس امیدوار کی بغیر کسی دنیاوی لالچ اور حوس کے دن رات ووٹ بھی دلوائے اور کھل کر سپورٹ کی خیر اسکی نیت کی جزا اسے اس کا خدا دے گا اس فرد نے اس امیدوار سے نا ہونے کے برابر فلاح کام کےلئے گزارش کی جو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی اس سے بھی کم تھی مگر مثبت جواب نہ ملا ایک نے کہا دوسرے سے بات کرو دوسرے نے کہا تیسرے سے بات کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے معلوم پڑا یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ذاتی مفادات اورشہرت کی خاطر۔۔۔۔۔۔ جو کروڑوں روپے ذات کی خاطر خرچ کردیتا ہے ہو کیا وہ لاکھ دو لاکھ عوام کی خدمت کے لئے خرچ نہیں خرچ کرسکتا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں تبدیلی کے راز پاکستان کی تاریخ 1947 سے لیکر 2018 تک تلخ تجربات میں ہی گزری ہے ۔
اقبال علیہ رحمہ اور محمد علی جناح علیہ رحمہ کی کوششیں تا قیامت قائم رہیں گی مگر ضروت اس امر کی ہے پاکستان کو ایک مسیحا کی ضرورت ہے مگر میں سمجھتا ہوں وہ وقت بہت قریب آنے والا ہے کہ پاکستان اپنی اصلی حالت میں بدلے گا جس کا حقیقی نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پاک ہستی میں چند کرپٹ مافیا مسلط ہیں وہ اپنے انجام کو ضرور پہنچیں ۔۔۔۔اللہ اسی طرح اپنے بندوں کو آزمایا کرتا ہے ۔۔۔۔ کسی کو دیکر اور کسی سے لیکر کر اب وقت لینے والوں کا ہوگا ۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔میری بات )۔۔۔۔ آئیندہ کا موضوع ہمارے اندر تبدیلی کیسے آئے گی۔۔۔۔۔۔ وہ سیاسی ہوگی یا قربانی ۔۔

تحریر : رانا عاشق علی

how will we change

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں