102

سول ملٹری تصادم، ذمہ دار کون؟

لاہور (رضی طاہر)  وزیر خارجہ کے امریکہ دورے کے دوران دو بیانات سامنے آئے ۔۔۔ امریکی وزیر دفاع نے پاکستان کی انٹیلی ایجنسی آئی ایس آئی پر دہشتگردوں کی معاونت کا الزام عائد کیا، اور سول حکومت کی تعریف کی ۔۔ساتھ ساتھ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان میں سیاسی استحکام پر تشویش کااظہار کیا۔ جس سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔  احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کو معمہ بنایا گیا۔۔۔ زبانی احکامات پر رینجرز تعینات کی گئی اور احسن اقبال نے پری پلانٹڈ ڈرامہ رچایا۔۔۔ خوب ہنگامہ آرائی کی لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کے جواب کے بعد ان کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔ کہانی میں وزیر داخلہ جھوٹے نکلے ۔ کیپٹن صفدر نے مطالبہ کردیا کہ فوج سے بھی ختم نبوت کا حلف لیا جائے۔۔۔ یہ براہ راست فوج پر اس وقت حملہ تھا جب ڈی جی آئی ایس پی آر کچھ روز قبل کہہ چکے تھے کہ فوج ختم نبوت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔۔۔ اگلے ہی دن ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس کی وضاحت کرنا پڑی اور کیپٹن صفدر کو یاددلایا کہ یہ حلف نامہ پہلے ہی فوجی بھرتیوں کے طریقہ کار میں شامل ہے۔  معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں احتساب عدالت کے باہر ایک شخص کو دکھایا گیا کہ وہ آئی ایس آئی کے کرنل ہیں اور عدالت کے اندر کوئی ساز ش کررہے تھے، ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم نے ویڈیو کو جنگل میں آگ کی طرح پھیلایا۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب یہ سوال ہوا توانہوں نے واضح کہا کہ نیب جانے ان کا کام ، ہماری کوئی مداخلت نہیں۔۔۔ مسلم لیگ ن کے وزراءکی تشفی پھر بھی نہ ہوئی۔۔ آئی ایس پی آر کے زیراہتمام سلامتی اور معیشت کے عنوان پر سیمینار منعقد ہوا ، جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین سمیت آرمی چیف نے شرکت کی، یہ انہونی بات نہیں ہے۔۔۔ آئی ایس پی آر ایسے سیمینارز منعقد کرتی رہتی ہے۔ آرمی چیف نے اپنی تقریر کے دوران سیکیورٹی اور معیشت پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔۔۔ دنیا میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ امریکہ ، بھارت اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کی مثالیں ہیں جہاں کے فوجی سربراہان معیشت اور سلامتی کے حوالے سے لیکچررز دیتے ہیں۔۔۔ آرمی چیف سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے معیشت کی بہتری کیلئے کچھ تجاویز دے دیں۔ پھر کیا ہوا۔۔۔ ہمارے وزیر داخلہ صاحب نے پھر موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور بیان جاری کردیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر معیشت پر بیان بازی نہ کریں۔۔۔ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پر نشانہ۔ بات آرمی چیف نے کی لیکن نشانہ آصف غفور صاحب کو بنادیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کسی بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں