bomb blast in peshawar during anp corner meeting 106

پشاور : انتخابی مہم کے دوران دھماکہ ، اے این پی کے امیدوار ہارون بلور بھی جاں بحق ہوگئے

پشاور : انتخابی مہم کے دوران دھماکہ ، اے این پی کے امیدوار ہارون بلور بھی جاں بحق ہوگئے

انقلاب نیوز

دھماکے میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور بھی جاں بحق ہوگئے
پشاور یکہ توپ میں اے این پی کی انتخابی مہم کے دوران دھماکہ پی کے 78 اے این پی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 12 افراد زخمی ہارون بلور تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل
دھماکہ اے این پی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہوا، متعدد افراد زخمی
پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جگہ کا تعین کرنے پر معلوم ہوا کہ پشاورکے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خوفناک دھماکہ ہوا ہے۔دھماکہ اسٹیج کے قریب ہوا اس لئیے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دھماکے میں سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دھماکے سے قریبی املاک کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں متعددافراد زخمی ہو چکے ہیں۔زخمی ہونے والوں میں اے این پی کے رہنما اور انتخابی امیدوار ہارون بلور بھی شامل ہیں۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور متعلقہ ادارے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔امدادی کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کئیے جا رہے تھے۔واضح رہے کہ یہ حلقہ بشیر احمد بلور مرحوم کا حلقہ ہے۔یاد رہے کہ خفیہ ادارے پہلے سے ہی جن جماعتوں کے جلسوں کے نشانہ بننے کا بتا چکے ہیں اے این پی ان میں سے ایک ہے ۔محکمہ انسداد دہشتگردی نے خفیہ اداروں کی 2 رپورٹس کی بنیاد پر خبردار کیا ہے کہ الیکشن کے عمل کو تباہ کرنے کے لیے دہشتگردوں کی جانب سے ممکنہ تخریب کاری اور خود کش دھماکے ہو سکتے ہیں۔

نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں انکشاف ہوا ہے کہ انتخابات 2018 کے دوران 18 سیاسی رہنماؤں پر دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔ نیکٹا حکام کے مطابق ممکنہ حملوں سے متعلق آئی ایس آئی اور آئی بی کی جانب سے نیکٹا کو آگاہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے تما م صوبائی حکومتوں اورمتعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ نیکٹا حکام کے مطابق الیکشن کے دوران 12عام اور 6 مخصوص سیاسی شخصیات کے لئے تھرٹ الرٹ موصول ہوئی ہیں اوردہشت گردوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی ٹاپ لیڈر شپ کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے.

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں