56

ہرا سائیں سے اک ملاقات

تحریر ۔۔ رضوان رفیق باجواہ
کالم کا نام ۔۔ روشن سائے
rizwan_bajwa1@hotmail.com

آج ایک ایسی شخصیت کے بارے تحریر سپرد قلم کروں گا جس کے متعلق میں بھی دوسروں کی طرح ان کی زندگی میں کچھ نہ لکھ سکا اور جب وہ چلے گے تو دوسرے قلم کاروں کی طرح میں بھی یہ رسم ادا کر رہا ہوں جس کا مجھے افسوس ہے۔بات تو پیپلز پارٹی کے بانی کارکن ہرا سائیں کی کرنی ہے لیکن پہلے اس بات پر بھی تفصیلی بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ کارکن سوچ کیا ہے اور کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنے والا کارکن کس طرح پارٹی کا اثاثہ بن جاتا ہے ۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے کارکن دیکھے جنہوں نے اپنی پارٹی کے لیے کسی آندھی طوفان کی فکر نہ کی ۔میری نظر میں لفظ کارکن ایک نظریاتی سوچ کا نام ہے اور جو کارکن اپنی نظریاتی سوچ پر قائم رہتے ہیں ایسے ہی کارکن پارٹیوں کا سرمایہ بن جاتے ہیں کیوں کہ یہ کارکن اپنے ذاتی مفاد کو پارٹی مفاد پر ترجیح نہیں دیتے ان کی نظر میں پارٹی چھوٹی یا بڑی ہونے کا سوال نہیں ہوتا وہ نظریہ کو اہمیت دیتے ہیں ۔سب سے پہلے مجھے جے یوپی کے اس کارکن کا چہرہ انکھوں کے سامنے چلتا پھرتا نظر آ رہا ہے جس نے تحریک ختم نبوت میں مولانا عبدالستار خاں نیازی صاحب کو سزائے موت کا حکم ملنے پر اپنے زور بازو سے ساری حکومتی مشینری کو چکمہ دے کر نکل گئے تھے اور آخری دم تک کوئی مفاد حاصل کیے بغیر مولانا کے خدمت گزار رہے وہ جے یوپی کی اعلی قیادت کے کسی بھی پروگرام چاہے وہ شہر میں ہو یا پھر کسی دور دراز علاقہ میں ہمہ وقت موجود رہتے اسی وجہ سے وہ جماعت کی قیادت کی نظر میں محترم بھی رہے اور خاص طور پر مولانا عبدالستار نیازی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ۔لیکن دوسری طرف کچھ ایسے بھی کارکن تھے جو اپنے مفاد حاصل کرنے کے لیے قیادت کے ساتھ چپکے رہتے لیکن یہ ساتھ دیرپا نہیں ہوتا تھا کیونکہ جب تک لیڈر نظریات پر قائم رہتے ہیں تو ان کے ساتھ نظریاتی کارکن ہی چل سکتے ہیں اور جب لیڈروں نے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے جے یو پی کو لاتعداد ٹکروں میں تقسیم کیا تو یہی جماعت نظریاتی کارکنوں سے محروم ہو کر مفاد پرست ورکروں کی باندی گئی لوگ اپنا حصہ وصول کرتے گئے اور کسی دوسری جماعت کی طرف چل دیئے ۔نظریاتی کارکنوں میں جو دوسری خاصیت پائی جاتی ہے وہ بھی حیران کن ہے ایک تو یہ کارکن تاریخ پر پوری نظر رکھتے ہیں اور کسی بھی لیڈر کا پوشیدہ چہرہ ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا یہ نظریاتی کارکن ملکی سیاست کا مکمل انسائیکلوپیڈیا ہوتے ہیں کسی لیڈر یا کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی موضوع پر وہ دسترس رکھتے ہیں ۔ایسے ہی ایک گوجرانوالہ کے میاں اختر صاحب تھے جن کو میں محاورۃ ہرفن مولا کہتا تھا وہ محلے کے تھڑئے سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک جانے والوں کے ہر عمل سے واقف رہتے تھے اپنی زندگی میں انہوں نے پاکستان کے کئی اہم لیڈروں کے ساتھ وقت گزارا لیکن واضعدار تھے کسی کی برائی کو اچھالنے کی بجائے اس پر پردہ ڈالتے میاں اختر اپنی شخصیت میں ایک انجمن تھے لیکن کسی لیڈر سے بھی مفاد حاصل نہ کیا وہ اگر چاہتے تو پرانے زمانوں میں کروڑوں کما سکتے تھے لیکن اپنے نظریات کی حفاظت کرتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے ۔کارکنوں کے نظریات کا ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہزاروں کالم لکھے جا سکتے ہیں اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ لیڈر تو چند ہوتے ہیں لیکن ان کو لیڈر بنانے والے ہزاروں گمنام کارکن اپنی زندگیاں قربان کر کے کسی کو لیڈر بننے کا موقع مہیا کرتے ہیں اور ان واقعات کو تحریر کی شکل دینے کے لیے بھی ہزاروں نہیں کروڑوں صفحات پر ایسے عظیم لوگوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے ۔اب ہم ہرا سائیں کی طرف آتے جس نے اپنے نظریات کی حفاظت اپنی موت جاری رکھی اور یہ عرصہ کچھ کم نہ تھا سو سالہ ہرا سائیں نے اپنے نظریات کا پرچار کرنے کے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو نہ صرف مشکل تھا بلکہ کسی اور کہ لیے ایسا کرنا شائد ممکن نہ ہوتا میری ذاتی رائے میں ہرا سائیں ذوالفقار علی بھٹو کا اپنے وقت کا جیالا تو تھا ہی پر اس کے ساتھ ساتھ وہ بھٹو کا اس وقت کا ڈی جے تھا ایسا ڈی جے جو صبح کو گھر سے نکلتا اور گلی گلی کوچہ کوچہ بھٹو اور پیپلز پارٹی کے نظریات کا پر چار کرتا ہرا سائیں آج کے ڈی جے کی طرح نہیں تھا جو کروڑوں کا بل بناتے ہیں اور ٹیکس بھی نہیں دیتے اور جب ان ڈی جیز کی پکڑہونے لگتی ہے تو پارٹی کا نام استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ہرا سائیں کا میوزک ایسا ہوتا کہ راہ چلتے کسی کو تکلیف آٹھانا پڑتی ہرا سائیں اکیلا ہی اپنی منزل کو نکلتا اور لاہور کی سڑکوں پر اپنی پارٹی کے ترانے اور بھٹو کی تقاریر لگا کر اپنی گدھا گاڑی دوڑاتا نظر آتا۔ایسے ہی ایک دن گرمیوں کے جاتے اور سردیوں کے آتے دن تھے کہ لوئر مال پر ان سے امنا سامنا ہوا وہ پی ایم جی افس کی دیوار کے ساتھ اندر کو جانے والی سڑک پر کھڑے تھے اور بھٹو کی تقریر چل رہی تھی میں نے اپنی موٹر سائیکل کو کھڑا کیا اور تقریر سننے کے لیے کھڑا ہو گیا ویسے تو میں بھٹو مخالف نظریات رکھتا تھا لیکن میں یہ دیکھنے کی کوشش کرنے کے لیے رک گیا کہ یہ شخص کون ہے اور یہ بھٹو اور پیپلز پارٹی سے اتنی محبت کا اظہار کیوں کر رہاہے گو میں اس وقت صحافت کے شعبے سے وابستہ نہ ہوا تھا لیکن ہرا سائیں کے اس عمل نے مجھے مجبور کیا کہ میں ان سے بات کروں اب کیا تھا میں کھڑا ہرا سائیں کی گدھا گاڑی کا جائزہ لے رہا تھا کہ اس پر کیا کچھ پڑا ہے اور میں اپنی بات کس طرح شروع کروں ابھی میں اس سوچ میں مبتلا تھا کہ ہرا سائیں میری طرف متوجہ ہوئے اور اشارہ کیا کہ کیا بات ہے اب میرے پاس کوئی خاص وجہ نہ تھی بس منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ اپ کے ساتھ چائے کا ایک کپ پینا ہے زمانہ طالب علمی تھا بس جیب خرچ کے پیسے ہی ہوتے تھے ہرا سائیں نے پھر اشارہ کیا کہ کیوں ؟فوری طور پر خیال آیا اور میں نے کچھ مزید سوچنے سے پہلے ہرا سائیں کو کہہ دیا بھٹو پر مضمون لکھنا ہے بھٹو کی شخصیت پر آپ کی راے لینی ہے میرا یہ کہنا تھا کہ ہرا سائیں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا میرے خیال میں وہ مجھے پولیس والا سمجھ رہے تھے کیوں کہ یہ جنرل ضیا کا دور تھا لیکن پھر میری کالج کی کتابوں کو دیکھ کر ان کا شک دور ہوا ہرا سائیں راضی ہوئے تو اب چائے والے ہوٹل کی تلاش شروع ہو گئی اس تلاش میں ہم سول لائن کالج کے سامنے والی روڈ پر آ گے دوپہر کا وقت تھا بھوک بھی لگی تھی ایک بار پھر جیب کی طرف دھیان گیا ساری جیبوں کو ٹٹولا تو موٹر سائیکل کے پٹرول کے پیسے بھی مل گے میں نے سائیں ہرا کو بوٹا چنے والا کی طرف جانے کا اشارہ کیا اور اس کی دوکان کے سامنے ہی ہرا سائیں کی گدھا گاڑی پر بیٹھ کر نان چنے کا اڈر دیا یہ ملاقت مختصر تھی لیکن ہرا سائیں کی باتیں میرے ذہین پر آج بھی نقش ہیں میں نے بھٹو کے متعلق پہلا ہی سوال سخت کر دیا کہ کہا جاتا ہے کہ بھٹو بہت ظالم تھے ہرا سائیں کے چہرے پر پہلے غصہ اور پھر سنجیدگی آئی اور کہا ظلم تو اس کے ساتھ ہوا اور جنہوں نے ایسا کیا وہ اللہ کو جلد حساب دیں گے یہ فوجی حکمران خوفزدہ ہیں یہ تو میری گدھا گاڑی سے خوف زدہ ہیں لیکن جب تک میرے جسم میں سانس چل رہی ہے میں بھٹو اور پیپلز پارٹی کے نظریات کا پرچار کرتا رہوں گا کیونکہ بھٹو زندہ ہے اس کو مارنے والے عبرت کا نشان بن جایءں گے مجھے پارٹی سے کوئی ذاتی مفاد نہیں بھٹو نے جو آزادی اور غریب آدمی کو بولنے کی طاقت دی تھی میں تو اس کا پرچار کر رہا ہوں یہ سب کچھ میری روح کی غذا ہے جس دن مین گھر سے باہر نہ نکلوں تو میری روح بے چین رہتی ہے میر ا بھٹو سے عشق پارٹی بنانے کے پہلے دن شروع ہوا اور مرتے دم تک ایسے ہی رہے گا اس دوران ہرا سائیں بھٹو کی ٹیپ پر لگی تقریر کی آواز بلند کر دیتے اور ساتھ اپنی گفتگو کو جاری بھی رکھے ہوے تھے ہرا سائیں نے جو اہم بات کی وہ یہ تھی کہ اگر میں چاہوں تو اپنی زندگی کو سہولتں دئے سکتا ہوں لیکن میرا پارٹی اور بھٹو سے عشق ختم ہو جاے گا ہرا ساہیں نے اس موقع پر حضرت بلھے شاہ کا کلام بھی پڑھا ۔ابھی بات جاری تھی کہ ایک پولیس والے نے گدھا گاڑی یہاں سے ہٹانے کو کہا اور ساتھ ہی حکم دیاکہ یہ ٹیپ بھی بند کرو ورنہ تھانہ زیادہ دور نہیں ۔ہم دونوں اپنی منزل کی طرف چل پڑے

اپنی رائے دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں